جموں کشمیر میں پر امن انتخابات مودی حکومت کی پالیسی کی توثیق | اگلا قدم اسمبلی چنائو | فوراً بعد ریاستی درجہ بحالی پاکستان مانگنے والوں نے بھی بھارتی آئین کے تحت ووٹ ڈالے: امت شاہ

عظمیٰ نیوز سروس

نئی دہلی// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں کامیاب پولنگ سے مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کی توثیق ہوئی ہے، جہاں علیحدگی پسندوں نے بھی “زبردست” ووٹ ڈالے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ خطے میں اسمبلی انتخابات 30 ستمبر سے پہلے منعقد ہوں گے۔ شاہ نے ہفتہ کو دیر گئے ایک خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد، حکومت مرکز کے زیر انتظام علاقے کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کا عمل شروع کر دے گی۔ انہوں نے کہا، “میں نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ہم اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست کا درجہ دیں گے”۔انہوں نے مزید کہا کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہو رہا ہے، جیسے کہ پسماندہ طبقات کا سروے اور اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی حد بندی کی مشق ہو رہی ہے۔ شاہ نے کہا، “ہم نے حد بندی کا عمل مکمل کر لیا ہے،کیونکہ حد بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ریزرویشن دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ہمیں مختلف ذاتوں کی حیثیت (ریزرویشن دینے کے لیے) کے بارے میں جاننا ہے۔ (جموں و کشمیر میں) لوک سبھا کا انتخاباب ختم ہو چکے ہیں، اگلا قدم اسمبلی الیکشن ہے جو بھی ہوگا، ہم سپریم کورٹ کی آخری تاریخ سے پہلے اس عمل کو مکمل کر لیں گے”۔ 11 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک انتخابات کرائے جائیں۔ لوک سبھا انتخابات میں وادی کشمیر میں نسبتاً زیادہ پولنگ فیصد پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ رویوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے، ووٹنگ کا تناسب بڑھ گیا ہے،کچھ لوگ کہتے تھے کہ وادی کے لوگ بھارتی آئین کو نہیں مانتے،لیکن یہ الیکشن بھارتی آئین کے تحت ہوئے کیونکہ کشمیر کا آئین اب نہیں رہا، وہ لوگ جو الگ ملک چاہتے ہیں، وہ جو پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے بھاری اکثریت سے ووٹ ڈالے۔ شاہ نے کہا کہ “یہ جمہوریت کی بہت بڑی فتح ہے اور نریندر مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے، جس پر وہ گزشتہ 10 سالوں سے عمل پیرا ہے”۔ وادی کشمیر کی تین نشستوں – سرینگر (38.49 فیصد)، بارہمولہ (59.1 فیصد) اور اننت ناگ-راجوری (53 فیصد) – میں “کئی دہائیوں میں” سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ یہ پوچھنے پر کہ بی جے پی نے وادی کشمیر میں لوک سبھا انتخابات میں کوئی امیدوار کیوں نہیں کھڑا کیا، انہوں نے کہا کہ پارٹی اب بھی وادی میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم مستقبل میں یقینی طور پر اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔ انکا کہنا تھا ’’ ہماری تنظیم میں توسیع ہو رہی ہے اور ہماری تنظیم مضبوط ہو رہی ہے‘‘۔ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) کے جموں و کشمیر کے ساتھ انضمام کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر شاہ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی خیال ہے کہ 1947-48 میں پاک مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ بن سکتا تھا، لیکن جواہر لعل نہرو کی حکومت کی طرف سے خطے پر پاکستان کے ساتھ پہلی جنگ میں قبل از وقت جنگ بندی کی وجہ سے یہ نہیں ہو پایا۔ انہوں نے کہا، “اگر چار دن بعد جنگ بندی کا اعلان کیا جاتا تو وہ حصہ بھی ہمارے ساتھ ہوتا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک مقبوضہ کشمیر کے جموں و کشمیر کے ساتھ ممکنہ انضمام کا فیصلہ کافی سنجیدہ بات چیت کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ملک کے لیے بہت اہم ہے”۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ PoJK کا انضمام بی جے پی کے منشور کا حصہ ہے۔ شاہ نے کہا، ‘‘اس کے علاوہ، اس پر ایک متفقہ پارلیمانی قرارداد تھی ۔ کانگریس پارٹی کو شاید یہ احساس نہ ہو کہ انہوں نے بھی اسے ووٹ دیا ہے”۔شاہ نے دعوی کیا کہ ان کی پارٹی نے کسی مذہب پر مبنی مہم کا سہارا نہیں لیا ہے لیکن اصرار کیا کہ اگر مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کے خلاف مہم چلانا، اور آرٹیکل 370 کے خاتمے اور یکساں سول کوڈ کو لاگو کرنے کے لیے ووٹروں تک پہنچنا مذہب پر مبنی مہم ہے، پھر بی جے پی نے کی ہے اور کرتی رہے گی۔