جموں وکشمیر میں 4جی کی بحالی مرکز کے زیر غور: بھاجپا

سرینگر//بی جے پی کے قومی ترجمان اور راجیہ سبھا ممبر سید ظفر الاسلام نے سوالیہ انداز میں پوچھا ہے کہ گزشتہ 70 برسوںمیں مرکزی فنڈز کہاں گئے اور اس کا جواب جموں و کشمیر کے سیاستدانوں کو دینا پڑے گا۔انہوں نے کہاتمام بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کے لئے روشنی اسکیم کی تحقیقات لازمی ہے جبکہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی بحالی مرکز کے زیر غور ہے۔ جواہر نگر سرینگر میں پارٹی دفتر پر جمعرات کو پریس کانفرنس  کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سید ظفر اسلام نے کہا کہ مرکز جموں و کشمیر میں 4-جی انٹرنیٹ خدمات کے بحالی پر غور کر رہی ہے اور روشنی گھوٹالہ کی اعلی سطح کی تحقیقات سے وہ تمام بڑی مچھلیاں پکڑی جائیں گی جنہوں نے غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی پر قبضہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے ترقی ہمیشہ ہی ایک خواب رہی ہے کیونکہ تمام سابق حکومتوں نے صرف اپنے خزانوں کو بھرنے کے لئے اس خوبصورت جگہ کے وسائل کو لوٹا ہے۔ سید ظفر الاسلام نے کہا کہ ہندوستان میں یہ ایک خوبصورت مقام ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی جموں و کشمیر کے لوگوں کی ترقی کے لئے ہر طرح سے پرعزم ہیں۔جموں و کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی بحالی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مرکز اس پر فعال طور پر غور کر رہا ہے اور ’’بہت جلد‘‘ انٹرنیٹ خدمات کی بحالی سے متعلق فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے گوجر ، بکروال اور شوپیان اور جموں میں دوسرے نچلے طبقوں سے ملاقات کی اور سب نے انہیں بتایا کہ سابق حکومتوں نے ان کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا۔