جمعتہ الوداع کی تقریبات میں ہزاروں لوگ شریک

سرینگر// جمعتہ الوداع کی تقریبات میں تبپتی دھوپ کے باوجود ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور روح پرور اجتماعات کا حصہ بنے۔ اس سلسلے میں تاریخی جامع مسجد سرینگر ، درگاہ حضرت بل اور وادی کی دیگر مرکزی جامع مساجد میں اور درگاہوںو خانقاہوں میں روح پرور مجالس کا اہتمام کیا گیا۔جمعتہ الوداع کے حوالے سے سب سے بڑی تقریبات آثار شریف حضرت بل اور جامع مسجد سرینگر میں منعقد ہوئیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے نماز جمعہ ادا کی۔جامع مسجد کے باہر سڑکوں گلی کوچوں میں نماز یوں کی قطاریں دیکھنے کو ملیں اور انہوں نے تپتی دھوپ کے بیچ نماز جمعہ ادا کی۔وادی کے شمال و جنوب سے سینکڑوں گاڑیوں میں سوار ہزاروں کی تعداد میں لوگ دوپہر تک حضرت بل پہنچ گئے۔ درگاہ حضرت بل میں دوپہر سے قبل ہی لوگ صفوں میں بیٹھے درور و اذکار میں محو تھے جن میں خواتین کی بھی ایک بھاری تعداد شامل تھی۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،نیشنل کانفرنس کے علی محمد سا گرنے بھی درگاہ شریف حضر ت بل میں نماز جمعہ ادا کی۔ آستان عالیہ حضرت شیخ حمزہ مخدوم ؒکے آستان عالیہ واقع کوہ ماران میں جمعتہ الوداع کے موقعہ پر فرزندان ملت کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی جنہوںنے نماز جمعہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہو کر توبہ استغفار کی۔ مسجد شریف سمندر باغ ،جامع اہلحدیث گائو کدل ، مسجد جامع قدیم بٹہ وارہ کے علاوہ شہر کی دیگرچھوٹی بڑی مساجدوں ، خانقاہوںاور درگاہوں میں بھی آج جمعتہ الوداع کے سلسلے میں روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے اور لوگوں کی کثیر تعداد نے ان مجالس میں حصہ لے کر’’توبہ و استغفار ‘‘کیا۔ پتھر مسجد سرینگر ، خانقاہ معلی ، مسجد غزالی رعناوری ،جناب صاحبؒ صورہ، دستگیر صاحبؒ خانیار،ٹی آر سی مسجد، دستگیر صاحبؒ سرائے بالاسمیت تما م چھوٹی بڑی مساجد اور خانقاہوں میں جمعتہ الوداع کی تقریبات کا اہتما م ہوا ۔چرار شریف میںحضرت شیخ العالمؒکی زیات پر جمعتہ الوداع کے سلسلے میں نماز جمعہ کے موقعہ پر بہت بڑ ااجتماع منعقد ہوا جس میں ہزاروں لوگوںنے شرکت کی۔بیت المکرم بارہمولہ، جامع قدیم، جامع مسجد کپوارہ، جامع قدیم و جدید ہندوارہ، اہم شریف بانڈی پورہ، جامع مسجد گاندربل، شا ہ مسجد سمبل،جامع مسجد شوپیاں، جامع مسجد بڈگام، جامع مسجد شوپیان، آثار شریف پنجورہ شوپیان، جامع مسجدرحت دیدی اسلام آباد، جامع مسجد پلوامہ، جامع مسجد کولگام اور کعبہ مرگ میں بھی جمعتہ الوداع کی بھاری تقاریب منعقد ہو ئیں اور اس ضمن میں نماز جمعہ کے بڑے بڑے اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے دوران مساجد ، خانقاہوںاور درگاہوں میں نماز جمعہ کے موقعہ پر روح پرور تقریبات کا اہتمام ہوا جن میں علماء اور ائمہ حضرات نے ’’جمعتہ الوداع کے فلسفے‘‘ اور اس دن کی فضیلت کو اجاگر کیا اور وادی میں امن و آشتی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں۔