جسمانی طور پرخاص افرادکا عالمی دن|متاثرین کا پریس کالونی میں احتجاج

 سرینگر//جسمانی طور ناخیز افراد نے جموں کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن کے بینر تلے معذورین کے عالمی دن کو یوم سیاہ کے بطور مناتے ہوئے جمعرات کو یہاں پریس کالونی میں اپنے مطالبات کو لے کر احتجاجی دھرنا دیا۔انہوں نے دھمکی دی کہ مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں 25جنوری سے جموں سیکرٹریٹ کے باہر غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کیا جائے گا ۔جمعرات کی صبح جموں کشمیر ہینڈ ی کپیڈ ایسوسی ایشن کے بینر تلے جسمانی طور نا خیز افراد پریس کالونی سرینگر میں جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ اس موقعہ پر جسمانی طور نا خیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جسمانی طور نا خیز افراد کے کافی مطالبات عرصہ دراز سے پورے نہیں کئے جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے مرکزی و ریاستی لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈسبلٹی ایکٹ -2016 کو جلداز جلد جموں وکشمیر میں لاگو کیا جائے اور باقی مسائل کو بھی حل کرنے کی طرف توجہ دے کیونکہ جموں کشمیر اب ایک مرکزی علاقہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے لگاتار حکومتیں جسمانی طور پر معذور افراد کے لئے کسی بھی فلاحی اقدامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوں کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے درخواست کی تھی کہ ہمارے مطالبات کو حل کیا جائے کیونکہ ہمیں اس کرونا وائرس اور لاک ڈاون میں بھی بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم آج تک ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث آج سڑکوں پر پھر نکالنے کیلئے مجبور ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں احتجاج کرنے کا کوئی شوق نہیںہے تاہم ہماری بات کوئی سنتا نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے مطالبات کو حل کرانے کیلئے کوئی دلچسپی دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سرکار کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ 25جنوری سے پہلے پہلے ہمارے مطالبات و مسائل کو حل نہیںکیا گیا تو 25جنوری سے سیول سیکریٹر یٹ جموں کے باہر غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی ۔  عبدالرشید بٹ نے تمام جسمانی طور معذور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ 7 دسمبر تک یہ ہفتہ یوم سیاہ ہفتے کے طور پر منائیں اپنے سکوٹروں پر سیاہ جھنڈے لگائیں جبکہ بازوں پر کالی پٹیاں پورے ہفتے کے لئے باندھ کر رکھیں۔