تھنہ منڈی کی آنگن واڑی ورکر اور ہیلپر 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

تھنہ منڈی/ چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ درہال ہیڈ کوارٹر تھنہ منڈی میں کام کر رہی آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں نے مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس پر الزام عائد کیاہے کہ دیدہ دانستہ طور پر فنڈز کو روک کر انہیں تنخوا ہوں سے محروم رکھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چائلڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ درہال میں 286 آنگن واڑی ورکر کام کرتی ہیں جن میں بیشتر تعلیم یافتہ ہیں جبکہ اسی پروجیکٹ میں 284 آنگن واڑی  ہیلپرز ہیں جنکا سارا دارومدار محکمہ کے ماہانہ مشاعرہ سے چلتا ہے۔ محکمہ آئی سی ڈی۔ایس میں آنگن واڈی ورکروں کو ماہانہ 3600 روپے بطور مشاعرہ دیا جاتا ہے جبکہ ہیلپروں کو ماہانہ 1840 روپے  ہے۔ ۔اس مہنگائی کے دور میں پڑھی لکھی اور اعلی تعلیم یافتہ ورکرز اور ہیلپروں کا گزارہ نا ممکن ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں ساتویں تنخواہ کمیشن کے تحت دیگر مستقل اور عارضی ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جبکہ ساتویں تنخواہ کمیشن سے ان آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کو کوئی فائدہ نہیں دیاگیاجبکہ انہیں وہ ماہانہ مشاعرہ بھی فراہم نہ کہا گیاہے۔ ان آنگن واڈی ورکرز اور ہیلپروں کا دائرہ حیات تنگ ہو کر رہ گیاہے۔ ان آنگن واڈی ورکروں اور ہیلپروں کو گذشتہ سال اپریل کے بعد کوئی مشاعرہ فراہم نہیں کیا ،جبکہ پروجیکٹ درہال کے دفتری سٹاف کو 4 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ آنگن واڈی ورکرز اور ہیلپرز ایسو سی ایشن نے کہا ہے کہ ریاستی سکرٹریٹ سے فنڈز مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس کو منتقل کئے جاتے ہیں جودیدہ دانستہ طور پر فنڈز روک کر محکمہ چائیلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں کام کرنے والی ورکروں اور ہیلپرو ںودیگر سٹاف کو تنخواہوں سے محروم رکھاجاتا ہے۔ اس سلسلے میںکرامت بیگم انچارج سی ڈی پی او تھنہ منڈی نے بتا یا کہ یکم جنوری کو پروجیکٹ درہال ہیڈ کوارٹر تھنہ منڈی کی تنخواہوں سے متعلق ضروریات کے بارے میں اعلی حکام کو آگاہ کیا گیا۔انہوں نے بتا یا کہ جوں ہی فنڈز منتقل ہونگے اسکے فورا ًبعد ان ملازمین کے بنک کھاتوں میں منتقل کر دی جائیگی۔