تھنہ منڈی میں محکمہ تعلیم کا حال بے حال

  بھٹیاںمڈل سکول کا حال بھی مختلف نہیں،90طلباء ایک کمرہ تک محدود

 
تھنہ منڈی//چیف ایجوکیشن آفیسر راجوری کی ہدایت پر پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائر اسکنڈری اسکول پلانگڑھ نے مڈل اسکول کنڈاں اور مڈل اسکول بھٹیاں کا دورہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق سی ای اوراجوری کی ہدایت پر پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائر اسکنڈری اسکول پلانگڑھ عبدالقیوم ندوی نے گزشتہ روزتعلیمی زون تھنہ منڈی کے مڈل اسکول کنڈاں ( دوداسن بالا ) کا دورہ کرکے اسکول کی صورتحال سے متعلق ایک مفصل رپورٹ مرتب کر کے سی ای او راجوری کو روانہ کی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مڈل اسکول کنڈاں میں 79 طلبہ کے لئے 5 اساتذہ تعینات ہیں اورطلباء کے بیٹھنے کے لئے صرف ایک کمرہ، اسکول میں دو بیت الخلاء اور ایک باورچی خانہ موجود ہے۔ اس اسکول میں سرو شکھشا ابھیان اسکیم کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار روپے تین کمروں پر مشتمل عمارت تعمیر کرنے کے لئے فراہم کیے گئے ہیں جس میں متعلقہ ٹھیکیدار نے پلنتھ ڈال کر عمارت کی تعمیر کا کام روک دیا ہے جبکہ عمارت کی تکمیل کے لئے 5 لاکھ 50 ہزار روپے محکمہ تعلیم کے کھاتے میں دستیاب ہیں۔علاوہ ازیں پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائر اسکنڈری اسکول پلانگڑھ عبدالقیوم ندوی نے سائیں ولی داد بھٹیاں کی زیارت کے قریب مڈل اسکول واقع ہے کادورہ کیا۔اس دوران بتایاگیا کہ سکول میں طلبہ کی تعداد 90 ہے اور بچوں کے بیٹھنے کے لئے محض ہی ایک کمرہ ہے۔ اس اسکول میں بچے درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر تے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا  ہے کہ تعلیمی زون تھنہ منڈی میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کیلئے تعلیم کاحصول سزاسے کم نہیں ہے ۔ کہیں اسکول ہے تو کہیں عمارت نہیں ۔مرکزی اسکیم سرو شکھشا۔ابھیان اسکیم کے تحت ملنے والی رقومات کا مناسب ڈھنگ سے استعمال نہ ہونا سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے پریشانی کاباعث بنا ہوا ہے۔