تعلیم یافتہ نوجوان اور بیروزگاری

آج کے نوجوانوں کے لئے سب سے اہم چیز کیا ہے؟۔ اس سوال کے جواب میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتاکہ آج نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت روزگار ہے کیونکہ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے ہی ہم قوم کو آگے لیجاسکتے ہیں۔جہاں تک روزگار کی فراہمی کا تعلق ہے تو یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور جس طرح اس وقت جموںوکشمیر میں بیروزگاری کی شرح ملکی سطح پر سب سے زیادہ ہے ،ایسے میں ہر تعلیم یافتہ نوجوان کیلئے سرکاری سیکٹر میں روزگار کا بندوبست کرنا ممکن ہے ۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر نوجوانوںکو باروزگار کیسے بنایا جائے۔جواب مختصراً یہ ہے کہ ہمیں روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔جو بھی حکومت نوجوانوں کے اس مطالبے پر لبیک کہے گی، وہ بہتر طرز حکمرانی کی مثال پیدا کرے گی۔اگر اس پس منظر میں دیکھا جائے توجموںوکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہاکاجموں و کشمیر مشترکہ مسابقتی امتحانات (جے کے سی سی ای) کیلئے عمر کی بالائی حد میں نرمی کا فیصلہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی ایک اچھی تعداد کیلئے امید کی ایک کرن ثابت ہوچکا ہے۔نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اس طرح کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے فیصلے ہمارے نوجوانوں کیلئے مستقبل کے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ملازمتوں کے موجودہ جمود کے ماحول میں ہمارے نوجوانوں کے مایوس ہونے کا امکان ہر وقت زیادہ ہے۔اگر ایک نوجوان تعلیم یافتہ شخص امید کھو دیتا ہے، تو یہ بڑے پیمانے پر معاشرے کیلئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح نشہ جیسی برائی نے بہت سے نوجوانوں کو صرف اس وجہ سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ انہیں نوکری نہیں ملتی۔ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہمارے نوجوان کس طرح غلط کاموں میں ملوث ہوتے ہیں جب کہ ان کے پاس توجہ دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس صورتحال میں ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے کامیابی کے امکانات کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔عمر کی حد میں نرمی کرنے سے زیادہ نوجوان امید کے دائرے میں رہیں گے اور امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سخت محنت جاری رکھیں گے جو مستقبل میں کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔یہ فیصلہ بہت سی نوجوان روحوں کے مستقبل کو بچانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔اب یہ ان نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فیصلے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اس نرمی سے مستفید ہونے والوں کو سخت محنت کرنی چاہئے اور اپنے خوابوں کا تعاقب کرنا چاہئے۔اس فیصلے سے سبق لیتے ہوئے حکومت کو مزید نوجوان دوست اقدامات اور فیصلوں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔جموں و کشمیر کو اس وقت ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کو تمام برے اثرات سے بچایا جاسکے۔امید کی فضا اور امکانات کا ایک ماحولیاتی نظام ہمارے نوجوانوں کو روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ امید اور امکانات ہوا میں نہیں ہوتے ہیں بلکہ امید اور امکانات کی فضا قائم کرنے کیلئے زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری حکومت اس ضمن میں کام کررہی ہے لیکن بیروزگاروں کی ایک بھاری فوج کو دیکھتے ہوئے یہ اقدامات حوصلہ افزاء نتائج نہیں دے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک تو سرکاری سیکٹر میں خالی پڑی سبھی اسامیوں کو ہنگامی بنیادوں پر شفاف بھرتی عمل کے ذریعے پُر کیاجائے اور دوم نجی سیکٹر میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں اور ساتھ ہی خود روزگاری کے مشن کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور نوجوانوں کی خودروزگاری کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ایک نوجوان دوست ماحول تیار کیاجائے جہاں ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنی تجارت شروع کرنے میں نہ صرف یہ کہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ اُس کو یقین بھی ہوں کہ حکومت اُس کی پشت پر ہے اور سرکار اُسے کبھی ناکام نہیں ہونے دیںگے اور کامیابی کی منزل چھونے تک اُس کا ہاتھ تھامے رکھے گی ۔جب اس طرح کا بندو بست ہوگا تو ہمارے نوجوان سماج کے کار آمدفراد بن سکتے ہیں اور یہ جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کو یقینی بنائے گا۔