تدریس بھی آئوٹ سورس،ٹیچر خود غائب،اپنی جگہ دوسرے نوجوان کو پڑھائی پرلگایا

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے تعلیمی زون اندروال کے دورافتادہ علاقہ میں قایم گورنمٹ پرایمری سکول جنسیر میں بچوں کو سرکاری استاد کی جگہ مقامی نوجوان پڑھاتے ہوئے پایا گیا جبکہ سرکار ملازم کا کوئی پتہ نہ چلا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقہ گوجر طبقہ کا ہے اور سکول میں زیادہ تر طلباگوجر طبقے کے ہیں اور اس وقت تیس کے قریب بچے زیرتعلیم ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ جہاں گزشتہ دوسال سے سکول بند ہونے کے سبب بچوں کو پہلے ہی شدید مشکلات سے گزرنا پڑا وہی اب انھیں امید تھی کی اب انکے بچے تعلیم حاصل کرسکیںگے لیکن محض چند روز تک ہی تعینات ٹیچر نے سکول آنے کی زحمت کی جسکے بعد یہاں کے مقامی نوجوان کو اپنے جگہ پڑھانے بھیجا۔ انھوں نے کہا کہ ہم غریب ہیں،ہم اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرناچاہتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ انھیں وہ میسر نہ ہوگی۔لوگوں کا کہناتھا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جبکہ اس سے قبل بھی کئی مقامی نوجوانوں کو اساتذہ نے اپنی جگہ پڑھانے بھیجا ہے اور خود گھر میں عیش و آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں۔انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر و ڈایریکٹر سکول ایجوکیشن سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور اسے نوکری سے نکالنے کی مانگ کی ہے۔اس ضمن میں زونل ایجوکیشن افسر اندروال سنیل سنگھ رانا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انھیں شکائت موصول ہوئی تھی جسکے بعد انھوں نے سکول کا دورہ کیا جہاں انھوں نے سرکاری ملازم نصرت بانو کی جگہ مقامی نوجوان حذیف احمد کو بچوں کو سکول کے اندر پڑھاتے ہوئے پایا،ہم نے چیف ایجوکیشن افسر کو اسکی رپورٹ بھیج دی اور اسے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس دوران چیف ایجوکیشن افسر کشتواڑ سدرش کمار نے حکم نامہ جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ زیڈ ای او اندروال نے سکول کا دورہ کیا جسدوران انھوں نے گریڈ دو کی استانی نصرت بانو کی جگہ مقامی نوجوان کو سکول میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے پایا۔حکم نامہ کے مطابق سکول میں تعینات ٹیچرنصرت بانو نے اپنی جگہ حذیف احمد ولد محمدشفیع کو تعینات کیا تھا جو سکول چلارہا تھا جسکے بعد استانی کو معطل کردیا گیا اور اسے زونل ایجوکیشن افسر اندروال کے دفتر کیساتھ منسلک کیا گیا جبکہ تین رکنی ممبران پر مشتمل ٹیم جس میں ڈاکٹر ریاض الحق ، راکیش چنرر و شاہنواز حسین شامل ہیں، تشکیل دی گئی جنھیں اس معاملے میں انکوائری کرنے کو کہاگیا ہے اور دس روز کے اندر حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔