تاریخی پونچھ قلعہ خستہ حالی کا شکار | شانِ رفتہ کی بحالی کیلئے اقدامات ناگزیر

پونچھ//پونچھ کے وسط میں موجود قلعہ خستہ حالی کے باوجودقدیم فن تعمیر کے ماہرین کی عظمت اور یہاں کے حکمرانوں کی یاد دلاتا ہے۔قدیم فن تعمیر کی یاد دلانے والا یہ قلعہ اب عدم توجہی کے باعث تباہی کے دہانے پر ہے ۔اپنے دور میں یہ قلعہ بلا شبہ شان و شوکت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس کی باقیات اپنی زبوں حالی کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ قلعہ تاریخی واقعات کا گواہ ہے جس نے اپنے وقت کے کئی طاقتور حکمرانوں کا عروج و زوال دیکھا۔ قلعے کی باقیات آج بھی اس کے شاندار ماضی سے لے کر اس کی موجودہ حالتِ زار کی کہانی بیان کرتے نظر آتے ہیں۔پونچھ کے معروف ادیب و تاریخ دان کے ڈی مینی نے کشمیر عظمیٰ کو اس حوالے سے بتایا کہ تاریخ سے مالا مال شہر پونچھ کی عظمت میں اضافہ کرنے والا پونچھ قلعہ دیکھنے کے لئے ایک خوبصورت مقام ہے۔انہوں نے بتایا کہ 7535 مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے  اس عظیم تاریخی عمارت میں اس کی لمبی دیواروں کے اندر ڈوگروں ، سکھوں اور مسلمانوں کے راج کی داستانیں چھپی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قلعہ کی بنیاد راجہ عبد الرزاق خان نے 1713میں رکھی تھی لیکن اس کی تعمیر اس کے بیٹے راجہ رستم خان نے 1760 سے 1787 کے درمیان مکمل کی۔انہوں نے کہا کہ اس قلعہ میں عمارتوں کی ایک سیریز ہے جو چاروں صحنوں کے آس پاس ترتیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈھانچے مسلم حکمرانی ، سکھ حکمرانی اور ڈوگرہ حکمرانی کے الگ الگ ادوار سے تعلق رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمارت میں مغل فن تعمیر کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔مینی نے کہا کہ جب سکھ حکمرانوں نے اس خطے پر حکومت کی تو انہوں نے اس میں مرکزی بلاک شامل کیا جو سکھ طرز تعمیر پر بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیر کے کئی سال بعدقلعہ کی تزئین و آرائش راجہ موتی سنگھ نے (1850-1892) میں کی۔ انہوں نے سامنے والے حصے کو ڈیزائن کرنے کے لئے یورپ سے معمار بلائے۔کے ڈی مینی کے مطابق راجہ بلدیو سنگھ کی حکومت کے دوران پونچھ قلعہ کو سلطنت کا سکریٹریٹ بنایا گیا جبکہ سرکاری رہائش گاہ کو موتی محل منتقل کردیا گیا۔حکام کی عدم توجہی کے باوجود یہ قلعہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بناہے۔ 220 برسوں سے زیادہ پرانا یہ قلعہ منفرد فن تعمیر کو ظاہر کرتا ہے۔کے ڈی مینی کاکہنا ہے کہ2005تک اس قلعہ میں کئی سرکاری دفاتر قائم تھے 2005میں تباکن زلزلے نے اس عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ زلزلے کے باعث یہ ’پکا قلعہ‘ خستہ حالی اور تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ۔انہوں نے کہا کہ اس زلزلے کے بعد قلعہ کی مرمتی کے لئے کئی بار رقومات واگزار ہوئے جس سے قلعہ کے سامنے والے حصے کی کچھ حد تک مرمت کی گئی آج بھی قلعہ میں تحصیلدار حویلی کا دفتر اور محافظ خانہ قائم ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ عمارت کے بڑے حصے کی دیواریں آہستہ آہستہ گرتی جارہی ہیں جبکہ تاریخی قلعہ اندر اور اس کی دیواروں کے سائے تلے اب بھی ناجائز تجازات کر کے لوگ رہائش پذیر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس قدیم ورثے کا تحفظ اور فوری بحالی پونچھ کی قدیم اور تاریخی شناخت قائم رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔قلعہ کو اس کی اصل حالت میں محفوظ کرنا ہی اس کی اصل بحالی ہوگی اور اس ضمن میں ان اسباب کو مد نظر رکھنا بے حد ضروری ہے جو اس قلعہ کی تباہی کا سبب بنے، جن میں ماحولیاتی تبدیلیاں، برساتی پانی کا جمع ہونا، نکاسی آب کا فقدان، جنگلی پودوں کی افزائش اور خاص طور پر مجرمانہ انسانی غفلت قابل ذکر ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ جو کچھ تباہ ہوگیا اسے تو واپس نہیں لایا جاسکتا لیکن جو کچھ باقی ہے اسے بحال کرنے اور بچانے کی کوششیں ضرور کی جا سکتی ہیں ورنہ پونچھ قلعہ جیسا قدیم اور انمول ورثہ بھی صفحہ ہستی سے مٹ کر صرف تاریخ کی کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گا۔