بے کاری اور بیروزگاری کے بیچ بجلی بلوں کی آن لائین ادائیگی۔۔۔ | صارفین کیلئے 3ماہ کی بلیں یکمشت اداکرنا ناممکن،مہلت دینے کا مطالبہ

سرینگر //چار ماہ سے مسلسل لاک ڈائون کی مار جھیل رہے کشمیر کے غریب بجلی صارفین کیلئے اب ایک ساتھ بجلی فیس کی ادائیگی ممکن نہیں ہے کیونکہ صافین کا کہنا ہے کہ بغیر کمائی کے وہ ایک ساتھ بجلی کی بلیں جمع نہیں کر سکتے ۔محکمہ بجلی نے لاک ڈائون کے دوران پچھلے تین ماہ سے صارفین کو بجلی کی بلیں ارسال نہیں کی ہیں جبکہ آن لائن ادائیگی بھی 70فیصد صارفین کیلئے ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگوں کیلئے لاک ڈائون کے بعد ایک ساتھ بجلی کی بھاری بلیں ادا کرپانا ناممکن بن جائے گا ۔اس دوران محکمہ بجلی نے دعویٰ کیا ہے کہ سوموار اور منگل سے لوگوں کو بجلی کی بلیں ارسال کی جائیں گی اور جو لوگ آن لائن بجلی کی بلیں اداکرنا چاہتے ہیں ان کیلئے سہولیات دستیاب ہیں ۔معلوم رہے کہ حال ہی میں محکمہ نے صارفین پر زور دیا کہ وہ بلوں کی ادائیگی کیلئے آن لائن سہولیات سے استفادہ کریں۔محکمہ نے صارفین سے کہا کہ وہ اپنے بجلی بل آن لائن موڈ کے ذریعے ویب سائٹ //billsahuliyat.jkpdd.net/ httpsپر ادا کریں۔تاہم اس دوران محکمہ بجلی کی ویب سائٹ کے ہیک ہونے کا انکشاف ہوا اور کہا گیاکہ اس کے ٹھیک ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے ۔ایک بار پھر لوگوں سے کہا گیا کہ لوگ آن لائن بجلی بلیںاداکر سکتے ہیں۔ اس بیچ جموں وکشمیر کے 70فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں، سمارٹ فون کا استعمال یا آن لائن بجلی بلیں اداکر پانا اُن کیلئے کیسے ممکن ہو گا ؟ ۔صارفین کا کہنا ہے کہ اگر سلسلہ ایسا ہی چلتا رہا انہیں بجلی بلیں ارسال نہ کی گئیں تو ایک ساتھ وہ دو سے تین ماہ کی بجلی فیس یکمشت اداکر پانا ان کیلئے کافی مشکل ہو جائے گا ۔ کئی ایک صارفین کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کو دیکھتے ہوئے صارفین کی بجلی بلوں کو معاف کیا جائے کیونکہ وہ لاک ڈائون میں گھروں میں ہی محصور رہے اور ایک ساتھ ان کیلئے بجلی کی بلیں ادا کر پانا ناممکن ہے ۔تاہم جن لوگوں کے پاس آن لائن بلیں اداکرنے کی سہولیات ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر یہاں4جی رفتار پر انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب ہوتی تو بہت سے کام گھر بیٹھے ہی انجام دیئے جاسکتے تھے۔ عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرمرکزی سرکار کشمیریوں کی ہمدرد ہوتی، تو کوروناوائرس کے ظاہر ہونے کے ساتھ ہی کشمیر میں انٹرنیٹ کو بحال کیا جاتا لیکن لوگوں کے مطالبے کو کسی خاطر میں نہ لاکر مرکزی سرکار نے جموں کشمیر میں انٹرنیٹ پر قدغن جاری رکھی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی میں ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کے گھروں میں سمارٹ فون ، لیپ ٹاپ یا پھر دیگر ایسی کوئی سہولیات نہیں ہیں جس کے ذریعے وہ آن لائن بجلی بل اداکر سکتے جبکہ ایسے صارفین کو یہ معلوم بھی نہیں ہے کہ انہیں ماہانہ کتنی بل ادا کرنی پڑتی ہے ایسے میں صارفین کیسے آن لائن بل ادا کر سکتے ہیں ۔مقامی صارفین نے محکمہ بجلی سے سوال کیا ہے کہ وہ بلوں کی ادائیگی میںمہلت دیں اور دو ماہ کی بلوں کو معاف کیا جائے ۔اس دوران محکمہ بجلی کے ایگزیکٹو انجینئر آٹی ٹی کشمیر سرجیت غنی لالا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سوموار اور منگل سے بلوں کی ہاڈ کاپیاں صارفین تک پہنچ جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ بلوں کی پرنٹنگ کا کام چل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ آن لائن بلیں اداکرنا چاہتے ہیں وہ اس کا فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت سرینگر اور بیرون ریاستوں سے لوگ کی ایک بڑی تعداد بجلی بلیں آن لائن اداکر رہے ہیں اور اس سے کافی زیادہ پیسہ جمع ہو جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کی جو ویب سائٹ ہیک کر لی گئی تھی اس کے ٹھیک کرنے کا کام بھی تیزی سے ہو رہا ہے اور بہت جلد یہ کام بھی مکمل کر لیا جائے گا ۔