بیساکھی کے تہوار پر سبر ناگ مندر میں 15ہزار عقیدتمند جمع

بھدرواہ //صدیوں پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بھدرواہ کے لوگوںنے بیساکھی کے تہوار کے موقعہ پر ناگ کلچر کی علامت کے طور پر سبر دھر میلا منایا ۔اس دوران ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند قدیم سبر ناگ مندر میں جمع ہوئے جو سطح سمندر سے 12ہزارفٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔اس مندر کو بیساکھی کے تہوار کے پیش نظر کھولاگیا۔ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمندوں نے بھدرواہ قصبہ سے 30کلو میٹر دورسبر دھر علاقے میں واقع 700سالہ قدم سبر ناگ مندر کی طرف چلنا شروع کیا جس دوران انہیں برف کے بیچ 12کلو میٹر سفر پیدل طے کرناپڑا۔اس دوران بڑی تعداد میں بھیڑ وں کی قربانی لگائی گئی جو قدیم رسم ہے ۔اس تاریخی مندر کے پوجاری نے بتایاکہ یہ تہوار نہ صرف مذہبی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ علاقہ کا قدیم ترین تہوار بھی ہے ۔تہوار میں شریک ہونے کیلئے خطے کے مختلف علاقوں سے لوگ بھدرواہ پہنچے ۔اطلاعات کے مطابق مندر کے درشن کیلئے 15ہزارلوگ جمع ہوئے ہیں جن میں سے 8500خواتین جبکہ 6500مرد عقیدت مند ہیں ۔ایک خاتون عقیدت مند نے بتایاکہ برفباری کے باعث پچھلے چا رماہ سے گھروں میںہی بند رہنے کے بعد یہ موقعہ موسم بہار کو استقبال کرنے کیلئے کافی خوشی کاہے اوراس تہوار نے انہیں اپنے رشتہ داروں اور سہیلیوں سے ملاقات کا موقعہ فراہم کیاہے ۔اس دوران چھڑی مبارک چنتا، شورارہ اور بھالرا سے ہوتے ہوئے دن کے دو بجے مندر کے پاس پہنی جہاں روایتی ڈانس کے ساتھ تہوار منایاگیا۔عقیدت مندوں میں کھانا وغیرہ بھی تقسیم کیا گیا اورانتظامیہ و پولیس کی طرف سے ہر ممکن تعاون دیاگیا۔تاہم کچھ عقیدت مندوںنے پینے کے پانی کا بندوبست نہ ہونے پر انتظامیہ کو تنقید کانشانہ بنایا اورتاریخی مندر تک سڑک کی تعمیر کی بھی مانگ کی ۔جموں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کمل کور نے بتایاکہ وہ پہلی مرتبہ بیساکھی میلے میں یہاں آئی ہے اور اس علاقے میں سیاحتی ترقی کی بہت زیادہ صلاحیت ہے لیکن نہ ہی سڑک ہے اور نہ ہی عقیدت مندوں کیلئے کوئی دوسری سہولت ۔دریں اثناء اس دوران ایک پوجاری کی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موت ہوگئی ۔ ایس ایچ او بھدرواہ منیر خان کے مطابق ہمروٹ سے سبر ناگ مندر جانے والی چھڑی مبارک کے دوران ایک پوجاری کی راستے میں موت ہوگئی ۔ انہوںنے بتایاکہ اس کی شناخت 70سالہ بودھ راج ولد نند لعل ساکن ہمروٹ بھدرواہ کے طور پر ہوئی ہے ۔