کشتواڑ//کشتواڑ کے ادویہ فروشوں نے سرکار کی جانب سے بیرونی کمپنی ’’سنیوگ‘‘کو سرکاری ہسپتالوں میں دکان الاٹ کرنے کے خلاف مکمل ہڑتال کی۔دریں اثنا کیمسٹ ٹریڈرز نے ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگ کے باہر بھی دھرنا دیا جو کہ وزیر صحت بالی بھگت کی قیادت میں منعقد ہو رہی تھی۔مقامی کیمسٹ ٹریڈرزنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہڑتال کرنے کا فیصلہ ایک اجلاس میں لیا گیا تھا جس میں دونوں رٹیل و ہول سیل کیمسٹ ٹریڈرزایسوسی ایشن نے شرکت کی۔ایک فارما ٹریڈر عارف منشی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سرکار کی جانب سے لاگو کئے ہوئے ٹینڈرنگ عمل کا درج بالا فرم کو الاٹ کرنا غلط ارادہ تھا۔انہوں نے ایک ہی کمپنی جو کہ غیر ریاستی ہے ،کی الاٹمنٹ کے فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثنا ڈی ڈی بی اجلاس میں حُکمران پارٹی کے ایم ایل سی فردوس ٹاک نے کشتواڑ ہسپتال کے اندر میڈیکل شاپ کھولنے کی تجویز پر اعتراض کیاہے،جس میں انکی حمایت ایم ایل اے اندروال جی ایم سروڑی اور ایم ایل سی سجاد احمد کچلو نے بھی کی۔ممبران نے کہا کہ میڈیکل کاروبار کے ساتھ 200 ۔افراد وابستہ ہیں،جو کہ اس فیصلہ سے بیروزگار ہو جائیں گے اور وزیر صحت سے اس تجویز پر روک لگانے کا اصرار کیا۔بورڈ کے چئیرمین ،جو کہ بذات خود وزیر صحت ہیں ،نے اس کے رد عمل میں بتایا کہ مذکورہ کمپنی کو عدالت سے حُکم ملا ہے اور سرکار عدالت کے فیصلے پر کُچھ نہیں کر سکتی ہے۔