بھیم سنگھ کی صدر ہند سے درخواست

سرینگر// نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ایگزیکیوٹیو ممبر پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر رامناتھ کووند سے درخواست کی ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے تعلق سے ہندستانی آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ صدر ہی آج آئینی سربراہ ہیں اور ان ہی کو جموں وکشمیر کے تعلق سے ہندستانی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے آئینی مسائل کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستا ن کے صدر کو یاد دلایا کہ مئی 1954میں ہندستان کے صدر نے ہی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آرٹیکل۔35میں Aجوڑا تھا۔ اسی طرح صدر ہی واحداتھارٹی ہیں جو جموں وکشمیرمیں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے مفاد میں کسی بھی نئی تبدیلی نافذ کرنے کے اہل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے جموں وکشمیر اسمبلی کی مدت کار پانچ بر س تھی لیکن جب لوک سبھا کی مدت کا ر کو چھ برس کیا گیا تو جموں وکشمیر حکومت نے بھی ہندستانی پارلیمنٹ کی پیروی کرتے ہوئے اسمبلی کی مدت کار بڑھاکر چھ برس کردی ۔اس کے بعد جنتا پارٹی کی حکومت نے 1977میں اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی مدت کار پھر سے پانچ برس کردی۔ انہوں نے صدر سے کہا کہ یہ جموں وکشمیر کے تعلق سے دشمنانہ فیصلہ تھا اور ہندستانی پارلیمنٹ کو مناسب فیصلہ کرتے ہوئے جموں وکشمیر اسمبلی پر بھی اسے نافذ کرنا چاہئے جس کی مدت کار آج تک چھ برس ہے۔انہوں نے ہندستان کے صدرسے درخوا ست کی کہ وہ ہندستانی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کی باقی اسمبلیوں کی طرح جموں وکشمیر اسمبلی کی مدت کار کو بھی پانچ برس کریں۔انہو ںنے صدر سے کہا کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے  جموں وکشمیر کے لئے دفاع، خارجی امور اور مواصلات کے تعلق سے قانون بنانے کی پارلیمنٹ کو ہدایت دیں۔پنتھرس سربراہ نے صدر پر زور دیا کہ مناسب آئینی دستاویز تیار کرنے کے لئے ہندستان کے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کے مفاد میں پورے ملک کے لئے ایک قانون ہونا چاہئے  اور کنیا کماری سے لیکر کشمیر تک کے تمام ہندستانی شہریوں کو ایک آئین اور ایک قومی جھنڈے کے ساتھ تمام بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔