بھدرواہ میں 50سالہ شہری کی ہلاکت کا واقعہ

 بھدرواہ //  //  50سالہ شہری کی ہلاکت کے بعدقصبہ میں کرفیو دوسرے روز بھی سختی سے نافذ رہا۔اس دوران پولیس نے واقعہ میں گائو رکھشکوں کے ملوث ہونے سے انکار کردیاہے ۔جموں وکشمیر پولیس نے ٹوئٹر کے ذریعہ ایک بیان میں ان میڈیا رپورٹوں کو مستر دکردیا جن میں کہاگیاتھا کہ شہری کی ہلاکت میں گائو رکھشک ملوث ہیں ۔پولیس کاکہناہے کہ تحقیقات کے دوران ابھی تک ایسی کسی بھی اطلاع کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔ایس ایس پی ڈوڈہ شبیر احمد ملک کاکہناہے کہ مہلوک شہری نعیم شاہ کے ساتھی اورواقعہ کے عینی شاہد یاسر حسین کی طرف سے اس حوالے سے متضاد بیان دیاگیاہے جو موقعہ سے ملے شواہد سے مشابہت نہیں رکھتا۔ایس ایس پی کے مطابق عینی شاہد نے اپنے بیان میں یہ کہاہے کہ بندوق کی گولی اوپر پہاڑی سے فائر کی گئی لیکن مہلوک کو ایک گولی ماتھے پر لگی اور دوسری گولی بھی پہاڑی کے نچلے علاقے کی طرف سے لگی ہے تاہم پولیس ہر ایک زاویہ سے اس قتل کیس کی تحقیقات کررہی ہے ۔دریں اثناء قصبہ میں کرفیو دوسرے رو زبھی سختی سے نافذ رہا جبکہ انٹرنیٹ خدمات بھی معطل ہیں ۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ ڈاکٹر ساگر دتارے ڈوئیفوڈے نے بتایاکہ کرفیوہٹانے یا اس میں ڈھیل دینے اور موبائل انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد لیاجائے گا۔واضح رہے کہ قصبہ میں جمعرات کی صبح اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب یہ خبر پھیلی کہ پچا س سالہ شہری نعیم شاہ کی گائورکھشکوں کے ہاتھوں ہلاکت ہوگئی ہے ۔ا س دوران پرتشدد مظاہرے ہوئے اوردو طبقوں کے گروپوں کے درمیان سیری بازار میں پتھرائو بھی ہواجس بیچ مشتعل ہجوم نے گھروں ، دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔جمعرات کے روز ہونے والے پتھرائو میں 3درجن کے قریب دکانوں کو نقصان پہنچاہے ۔صورتحال کو پرتشدد پاتے ہوئے انتظامیہ نے کرفیو نافذ کردیا اور ساتھ ہی موبائل انٹرنیٹ خدما ت بھی معطل کردی گئیں۔ادھر بھدرواہ واقعہ پر کشتواڑ میں آج پرامن بند کی کال دی گئی ہے ۔ اسلامی مرکزی مجلس شوریٰ کے صدر اور امام جامع مسجد کشتواڑ نے کشتواڑ بند کی کال دیتے ہوئے اپیل کی کہ پورے ضلع میں کاروباری و تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں ۔ انہوں نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھدرواہ واقعہ قابل مذمت ہے جہاں نالٹھی کے مقام پرپانچ بیٹیوں کے باپ کو سر پر گولی مار کر قتل کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعہ پر کل یعنی سنیچر کو کشتواڑ ضلع میں پرامن بند رکھاجائے اور کاروباری و تعلیمی ادارے بھی بند رکھے جائیں ۔
 
 
 

لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں: گورنر

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک نے بھدرواہ واقعہ کے دوران ایک قیمتی جان کے زیاں کی مذمت کی ۔گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و قانون کی صورتحال کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں بلکہ وہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔ اُنہوں نے قصبے کے نمایاں لیڈروں پر زوردیاہے کہ وہ احتجاجیوں کو مطمئن کرنے کے لئے پولیس اور سول اِنتظامیہ کی مدد کریں۔دریں اثنا گورنر نے پولیس او رسول اِنتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی بھی کسر باقی نہ رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی سماج دشمن عناصر صورت حال کا غلط استعمال نہ کریں تاکہ بھدرواہ میں آپسی رواداری او ربھائی چارے کے رشتوں کو برقرار رکھا جائے جس کے لئے یہ قصبہ صدیوں سے مشہور ہے ۔