بھارت کی اکثریت کشمیر میں زیادہ فوجی طاقت کے استعمال کے روادار:سروے

ِِِِِِِِِِِسرینگر//پی ای اے کی طرف سے کئے گئے سروے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ نئی دہلی کو کشمیر میں زیادہ فوجی طاقت کے استعمال اور پاکستان کے تئیں انتہائی منفی رویہ اختیار کرنے کی پالیسی پر گامز ن رہنے کی صلاح دی جارہی ہے۔امریکن پبلک چیرٹی سروے ،جسمیں 2464لوگوں نے حصہ لیاہے،21 فروری سے لیکر 10مارچ تک انجام دیا گیا ، جس میں دہلی کا جموں کشمیر کے حوالے سے سخت جارحانہ موقف اختیار کر نے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ امریکن پبلک چیرٹی کی طرف سے کئے گئے سروے نے انکشاف کیاہے کہ 63فیصدی اکثریت کا ماننا ہے کہ حکومت کو زیادہ سے زیادہ فوجی طاقت کا استعمال کرنا چاہئے ۔جبکہ بعض کا مانناہے کہ ہندوستان کو طاقت کا اتنا ہی استعمال کرنا چاہیء جتنا وہ اس وقت کررہا ہے۔پاکستان جو کشمیر کی صورتحال کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے،کے حوالے سے پی ای اے سروے نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے بارے میں ہندوستانی باشندے انتہائی منفی رجحان کھتے ہیں اور اس میں بھی سال گزشتہ کے نسبت امسال اضافہ ہواہے۔ سروے کے مطابق 64فیصدی سے زیادہ ہندستانی باشندے پاکستان کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں جبکہ سال گزشتہ یہ شرح صرف 55فیصد تھی۔سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تئیں نفرت کا عنصر ہندوستانیوں میں بلا لحاظ پارٹی خطوط پایا جاتا ہے ۔ خواہ لوگوں کا تعلق بی جے پی سے ہے یا کانگریس سے ،لیکن اپنے دیرینہ حریف پاکستان کے بارے میں تمام یکساں نظریے کے حامل ہیں ۔تاہم یہ بات دلچسپ ہے کہ مذکورہ سروے کے مطابق جنوبی ہندوستان کے لوگ، جو ہند۔پاک سرحد سے کافی دور آباد ہیں پاکستان کے بارے میں نسبتا کم منفی سوچ کے حامل ہیں ۔سروے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ہندوستان میں صرف36فیصدی لوگ پاکستان کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیںجبکہ مشرقی ہندوستان میں یہ شرح68فیصد ،شمالی ہندوستان میں 69فیصداورمغربی ہندوستان میں یہ شرح 77فیصد ہے۔جب کہ جنوبی ہندوستان میں 30فیصد لوگ پاکستان کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں جس کے نسبت شمال اور مشرق میں یہ شرح صرف 6فیصد اور مغربی ہندوستان میں محض 3فیصد ہے ۔یہ بات بھی انتہائی دلچسپ ہے کہ پی ای اے کے سروے کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگ آئی ایس آئی ایس کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں ۔سروے نے انکشاف کیا ہے کہ دو۔چوتھائی ہندوستانی آئی ایس آئی ایس کو ملک کیلئے بہت بڑا خطرہ گردانتے ہیں ۔ مذکورہ اسلامی ملی ٹنٹ جماعت کے بارے میں ہندوستانیوں کے تشویش وفکر میں2016سے لیکر 14فیصد پوئنٹس اضافہ ہوا ہے۔ امسال کے موسم بہار میں جب سروے انجام دیا جارہا تھا ، کے دوران ہی آئی ایس آئی ایس نے مدھیہ پردیش میں اپناپہلا حملہ کرکے 10ریل مسافروں کو زخمی کیا ۔کشمیر میں آئی ایس آئی ایس کو تو یوں کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہے لیکن القاعدہ کے کالے جھنڈوں کو جو الیکٹرانک میڈیا کوریج دیتا ہے اُس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ یہاں آئی ایس آئی ایس کا وجو دہے، اس اسلامی ملی ٹنٹ گروپ میں شاید بہت کم جنگجو شمولیت کے خواہاں ہوں گے لیکن سرینگر میں القاعدہ کے جھنڈے مسلسل لہرائے جاتے ہیں ۔ اس انکشاف سے ڈاٹا جمع کرنے والے بھی محو حیرت ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان میں دنیا کے باقی حصوں کے نسبت زیادہ مشہور ومعروف ہیں ۔اگر چہ سروے میں حصہ لینے والوں میں سے نصف لوگوں نے ٹرمپ کے بارے میں کوئی رائے زنی نہیں کی لیکن جن لوگوں نے ٹرمپ کے بارے میں اظہار رائے کیا وہ انتہائی دلچسپ تھا ۔ ہندوستانیوں میں سے جن لوگوں نے ٹرمپ کے بارے میں اظہار رائے کیا ان میں سے42فیصد لوگوں نے ٹرمپ کو ایک طاقتور لیڈر قرار دیا اور 41فیصد لوگوں نے صدارت کا بہترین امیدوار قرار دیا ۔ہندوستانیوں کے اس بارے میں اختلاف رائے تھا کہ آیا امریکی صدر خطر ناک ، خود سر یا عام لوگوں کا خیال نہ رکھنے والا ہے یا نہیں ۔اس سوال کے جواب میں لوگوں نے کہا کہ ٹرمپ کوئی عظیم شخصیت ہیں اور نہ ہی وہ کوئی متکبر شخص ہے۔ لیکن یہ اطلاعات ٹرمپ کے بارے میں دنیا بھر میں موصول ہورہی منفی ریٹنگس کے بالکل برعکس ہیں ۔ دنیا کے 37ممالک میں کئے گئے سروے کے مطابق لوگوں کی اکثریت کا یہ ماننا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ خود سر ،خطرناک اور غیر روادار ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانی ٹرمپ کے اس فیصلے کو خوش آمدید کرتے ہیں کہ چنندہ مسلم اکثریتی والے ممالک کے مہاجرین پرپابندی ہونی چاہئے ۔تاہم اس میں بی جے پی کے حمایتیوں کی تعداد(41% ( ہے جو کانگریس حمایتیوں (22%)سے زیادہ ہے ۔مذکورہ سروے ،جس کی رو سے نریندر مودی گزشتہ سال کی نسبت امسال زیادہ مشہور ہیں ، میں دو منفی پہلوہیں ایک یہ کہ اس سروے میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی ہے جو ہندوستان جیسے بڑے ملک میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔دوسری یہ کہ یہ سروے نوٹ بندی کے بعد اور جی ایس ٹی کے اطلاق سے پہلے انجام دیا گیاہے ۔