بھارت کشمیر میں جنگی جرائم کا مرتکب

 سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے ریاست میں بھارتی افواج اور انتظامیہ کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر شہری آبادی کے خلاف قتل وغارت، جنسی زیادتیوں اور زیرِ حراست قیدیوں پر جسمانی تشدد ڈھائے جانے والے بدترین قسم کے جنگی جرائم کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے جنگی ٹربیونل کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔مزاحمتی قیادت نے ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن کے سامنے جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قیادت کو اسیرانِ زندان کی حالت زار کے حوالے سے جو مصدقہ اطلاعات پہنچی ہیں انکے مطابق ریاست اور ریاست سے باہر بھارت کے جیل خانوں میں ایامِ اسیری گزارنے والے بے بس قیدیوں پر جسمانی تشدد ڈھانے، ان سے بیگار لینے، ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرنے، انہیں جانوروں کی طرح ہاتھوں اور پاؤں پر چلنے کے لئے مجبور کرنے، جیلوں کے اندر زیرِ تعلیم طلباء کو نصابی کتابیں فراہم نہ کرنے اور انہیں ہر قسم کی سہولیات سے محروم رکھنے کی ظالمانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے طول وعرض میں سرکاری دہشت گردی نے ایک خوفناک اور تشویشناک رُخ اختیار کررکھا ہے جس پر روک لگانے کے لیے عالمی برادری کی مداخلت ناگزیر بن گئی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کٹھوعہ سانحہ کو اقتداری سیاست کے گورکھدندے میں اُلجھا کر مقتول آصفہ کے لواحقین کو اپنے بیانات واپس لینے پر سرکاری دباؤ بڑھائے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 30 برسوں کے دوران وردی پوش اہلکاروں کے ہاتھوں اس قسم کے جنگی جرائم میں ملوث مجرمین کو قرارواقعی سزا دلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں تحقیقاتی کمیشن کا قیام ناگزیر بن گیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کٹھوعہ سانحہ کے خلاف نوجوان طلباء وطالبات اور عام لوگوں میں عدمِ تحفظ کا احساس تشویشناک حد تک بڑھ جانے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے اس سانحہ کے خلاف اسلام آباد، کولگام، شوپیان، سوپور، بارہ مولہ، سرینگر، پلوامہ وغیرہ قصبہ جات میں پُرامن مظاہرین پر راست فائرنگ، پیلٹ گن کا استعمال، لاٹھی چارج ٹئیرگیس اور پاواشل کی بارش کئے جانے کے بے تحاشا استعمال کو انسانی حقوق کی بدترین قسم کی پامالی سے تعبیر کیا۔