بھارت پاکستانی زیر انتظام کشمیر حاصل کرنے کیلئے پرعزم : ڈاکٹر جتیندرسنگھ

جموں // مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت پاکستانی کشمیر کوواپس حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہے اور یہی بھارت اور پاکستان کے تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جیسا کوئی ایشو نہیں ہے اور جموں و کشمیر ہندوستان کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا کہ کوئی دوسری ریاست یا مرکزی زیر انتظام علاقہ۔ ضلع جموں کے کھوڑ ، پرگوال اور دیگر علاقوں میں بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابی مہم کے دوران عوامی جلسوں کے سلسلے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ گپکار اعلامیہ کے بعض رہنماؤں کی اس تجویز کا جواب دے رہے تھے کہ ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہئے۔ انہوں نے 1994 میں پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کا حوالہ دیا جس میں متفقہ طور پر تمام فریقوں نے قبول کیا تھا کہ پاکستان کو ہندوستانی ریاست جموں و کشمیر کے ایسے علاقوں کو خالی کرنا پڑے گا جو اتنے برسوں سے اس کے غیر قانونی قبضے میں ہیں ۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان واحدتصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مسلسل نمائندگی بھارتی پارلیمنٹ میں رہی ہے اور آج بھی پارلیمنٹ میں ان کے ارکان پارلیمنٹ بیٹھے ہیںجس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پارٹیاں بھی اس متفقہ قرارداد کا حصہ ہیں لیکن محض موقع پرست سیاسی مفادات کے لئے ایک ایسے وقت ایسے مطالبے کئے جارہے ہیں جب وادی کشمیر میں ضلعی ترقیاتی کونسل کی انتخابی مہم جاری ہے ۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سرحد سے محض 3 سے 4 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور ڈی ڈی سی انتخابات کے انعقاد جیسے فیصلے کرنا ممکن بنا دیا ہے ، جو ناممکن سمجھے جاتے تھے ، اسی طرح پاکستانی کشمیر کو بازیاب کرنے کا یہ کام مودی سرکارہی انجام دیگی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی کشمیر کے لوگ طویل عرصے سے جمہوریت کے فوائد سے محروم ہیں اور ہمارا ان سے عہد ہے کہ ہم انہیں نچلی سطح پر بااختیار بنانے کے ساتھ ہندوستان کے جمہوری نظام کا مستفید بنائیں گے۔