بھارت شہری آبادی کو نشانہ نہ بنائے، غیر مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں

 راولپنڈی//پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ بھارت کیساتھ کوئی مہم جوئی نہیں بلکہ بہتر تعلقات کی متمنی ہے لیکن اسے کسی قسم کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے ایک اہم پریس کانفرنس میںکہا کہ پاکستانی فوج دہشت گردی کیخلاف جنگ نہ لڑتی تو خطرہ بھارت تک پہنچ جاتا۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر موجود دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج نے موثر کارروائیاں کیں اور اگر پاکستان ایسا نہ کرتا تو دہشت گردی بھارت تک پہنچ جاتی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ غیر مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں ہے ، اگر ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ نہ لڑتے اور القاعدہ کو شکست نہ دیتے تو یہ خطرہ بھارت تک پہنچ چکا ہوتا، بھارت کو بھی ہمارا شکریہ اداکرنا چاہیے۔یہ پوچھے جانے پر کہ 23مارچ کی فوجی پریڈمیں بھارتی سفیر کی موجودگی سے کہیں بھارت پاکستان کی کمزوری تو نہیں سمجھے گا،تو ترجمان نے کہا کہ بھارت نے کوئی مہم جوئی کی توسخت جواب ملے گا،ہم نے ہمیشہ اچھے تعلقات کا اظہار کیا ہے لیکن وہ پاکستان کے ہر اقدام کو شاید کمزوری ہی سمجھ رہے ہیں، سمجھنے دیجئے۔آصف غفور نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی صورتحال بدستور کشیدہ بنی ہوئی ہے اور بھارت کی طرف سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں سب سے زیادہ 2017میں ریکارڈ کی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال میں سب سے زیادہ فائر بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں جس کے دوران کئی شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے بارہا کہا کہ شہری آبادی کو نشانہ نہ بنایا جائے۔انکا کہنا تھا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے 948 واقعات ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بھارت سے کہا کہ اسے یہ سلسلہ ختم کرنا چاہیے، تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ بھارت نے مہم جوئی کی  تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔