بھارت دوبرس کیلئے سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بن گیا

اقوام متحدہ//بھارت جو اقوام متحدہ میں برسوں سے اصلاحات کیلئے جدوجہد کرنے میں پیش پیش رہا ہے،نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی طاقتور سلامتی کونسل میں دو برس کیلئے غیر مستقل رکن کی معیاد شروع کی۔ بھارت 2021-22کیلئے اقوام متحدہ کی15رکنی سلامتی کونسل میں غیررکن ممبر کے طور بیٹھے گا،اور یہ آٹھویں بار ہوگا جب بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن کا عہدہ سنبھالے گا۔سال2021میں بھارت، کینیا، آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکوغیرمستقل رکن ممالک ایسٹونیا،نایجر،سینٹ ونسنٹ اورگرنیڈینز ،تیونس اورویت نام کے گروپ میںشمولیت کرے گا۔بھارت اگست2021میں سلامتی کونسل کا صدر ہوگااور2022میں بھی ایک ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی صدارت کرے گا۔سلامتی کونسل کی صدارت ہر ایک ملک کو ایک ماہ کیلئے انگریزی حروف تہجی کے مطابق دی جاتی ہے ۔اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس تی رو مورتی نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنیادی اصولوں جیسے حقوق انسانی اور ترقی کو فروغ دے گااور سلامتی کونسل کے ممبر ممالک کے درمیان بہتر تال میل پرزوردے گا۔بھارت کا پیغام یہ بھی ہوگا کہ ہم کیسے تنوع میں یکجا ہیں جو مختلف صورتوں میں اقوام متحدہ بھی ہے ۔یہ کچھ ایسا ہے جو ایک ملک کی حیثیت سے بھارت کونسل میں لے جائیگا۔تری مورتی نے کہا کہ بھارت کونسل میں تعاو ن پر لازمی طور زوردے گااور یہ ایسی یہ جگہ نہیںہونی چاہیے جہاں کسی وجہ سے لازمی معاملات پر فیصلہ سازی نہیں ہوتی ہو۔ہم باہمی تعاون کا ڈھانچہ دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ہم مسائل کاحل نکالیں ۔ بھارت قانون اوربین الاقوامی قوانین کے احترام پر بھی زوردے گا ۔تری مورتی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی کا مقابلہ،قیام امن،سمندری تحفظ ،لوگوں،خواتین اور نوجوانوں کیلئے ٹیکنالوجی،اور خاص طور سے قیام امن کیلئے ترقی کے مسائل بھارت کی ترجیحات میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سلامتی کونسل میں بھارت کی موجودگی لازمی ہے کیوں کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں دراڑیں ہیں اور دیگر ممالک کے درمیان بھی خلیجیں ہیں ۔اقوام متحدہ ربط کھو رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اِسے واپس لائیں گے ۔تری مورتی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات نہ کئے جانے کی بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں اس سلسلے میں شاذ ہی کچھ کیاگیا ۔