بھاجپا کیساتھ اتحاد کرکے پچھتاوا ہے:محبوبہ

کپوارہ//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 2014میں انہیں کسی بھی صورت میں بھاجپا کیساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہیے تھا،جس پر انہیں پچھتاوا ہے۔کپوارہ میں عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کریں کیونکہ مسئلہ کشمیر خیالات کی جنگ ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ علیحدگی پسندو ں اور دیگر جماعتو ں کے لوگو ں کو جیل میں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ آنے والے وقت میں اس کے برے نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ اس کے لئے چایئے بی جے پی میرے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور مجھے جیل میں ڈالے تاہم جمو ں و کشمیر کی اصل صورتحال تبدیل نہیں ہوسکتی۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جماعت اسلامی اور اہلحدیث جیسی دینی جماعتو ں کے لوگو ں کو جیلو ں میں ڈال کر بند کیا جاتا ہے جسکے نتائج خطر ناک ثابت ہونگے اور آنے والے وقت میں اس کا خمیازہ پوری بھگتنا پڑے گا ۔محبوبہ مفتی نے جماعت اسلامی پرعائد5سالہ پابندی اورجماعت کے لیڈروں واسکولی ٹیچروں کی گرفتاری کیخلاف اختیارکردہ اپنے سخت موقف کااعادہ کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کوقیدکیاجاسکتاہے لیکن خیالات کونہیں ۔انہوں نے واضح کیاکہ جماعت اسلامی پرپابندی اوراسکے لیڈروں یاٹیچروں کی پکڑدھکڑسے جماعت اسلامی کانظریہ ختم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے سابق مخلوط حکومت میں بی جے پی کی ناک میں نکیل ڈالی تھی اور وہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے روکا تھا۔انکا کہنا تھا کہ 2002میں جب پی ڈی پی پہلی بار حکومت میں آئی تو پوٹا، ٹاسک فورس کو کٹم کیا اور سرینگر مظفر آباد روڑ کھولا۔اسکے بعدامن کی ایک نئی فضا قائم کر کے لوگو ں کے دلو ں سے خوف کا ماحول نکال دیا جبکہ ریاست میں تعلیم کے سیکٹر کو نئی جان بخشی ۔انہو ں نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ 2014میں بی جے پی کے ساتھ الحاق کرنے پر لوگ ناراض ہو جائیں گے لیکن ان کے پاس اس کے سوا کو ئی چارہ ہی نہیں تھا ،لیکن ایسا کر کے پارٹی کو آج پچھتاوا ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے پہلے ادوار کے تین برسوں میںبہت کام کئے لیکن لوگوں نے صرف 28نشستیں دیں،اوربی جے پی کو، جس نے کوئی کام نہیں کیا تھا کو بھی 25سیٹیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ پی جے پی کے نا پاک ارادو ں کو روکنے کے لئے ان کے ساتھ الحاق کرنے کے لئے مجبور ہو گئی تاکہ کشمیری قوم کو مزید تکالیف کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔لیکن ہوا اسکے الٹ۔انہو ں نے مزید کہا کہ میں نے مرکزی مذاکرات کار دنیشور شروما کو کشمیر لایا تاکہ وہ حریت سے بات چیت کرسکیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ملک کے وزیر داخلہ کو 4بار کشمیر لائی تاکہ حریت والوں سے بات چیت ہوسکے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اصلی مجاہد پارٹی کے کارکنان ہیں جنہو ں نے امن کو ما حول قائم کر نے میں اہم رول ادا کیا ۔اس موقع پر حال میں ٹریڈ یونین کے سابق صدر اور پارٹی کی جانب سے لوک سبھا انتخابات کے لئے نامزد امیدوار عبد القیوم وانی کے علاوہ راجیہ سبھا ممبر میر محمد فیا ض ،عبد الحق خان اور دیگر پارٹی لیڈرو ں نے بھی خطاب کیا ۔