بڈگام میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

سرینگر//بڈگام کے گریند کلاں علاقے میں ہندوستانی فضائیہ کا ایک جنگی ہیلی کاپٹرگر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں2پائلٹوں اور4ائر فورس اہلکاروں سمیت7افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں،جن میں ایک مقامی شہری بھی شامل ہیں۔وسطی کشمیر کے ڈی آئی جی نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی ہے،جبکہ بھارتی فضائیہ نے بھی اس واقعے کی کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا ہے۔

حادثہ

 وسطی ضلع بڈگام کے گریندکلاں چاڑورہ علاقے میں بدھ کو قریب10بجکر10منٹ پر اس وقت لوگوں میں افراتفری اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا،جب گھروں میں موجود لوگوں نے ایک زور دھماکے کی آواز سنائی دی۔ مقامی لوگ کچھ سمجھتے،کہ اس سے قبل ہی علاقے میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ ایک طیارہ زمین پر گر کر تباہ ہوا،جس کے بعد مقامی لوگوں نے جائے وقوع کی طرف پیش قدمی کی۔ لوگوں نے بتایا ’’بدھ کو فضا میں گرد ش کررہے جنگی طیاروں میں سے ایک نیچے کی طرف تیز رفتار سے آنے لگا جس دوران یہاں میدان میں جمع نوجوانوں کی بڑی تعداد طیارے کا مشاہدہ کرتی رہی۔‘‘یہ طیارہ مقامی بستی سے قریب200میٹر کی دوری پر گر کر تباہ ہوا،جبکہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا،اس وقت میدان میں کافی لوگ موجود تھے،تاہم وہ معجزاتی طور پر بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ MI-17 ہیلی کاپٹر ہے۔MI-17  بھارتی فضائیہ اہلکاروںکیلئے، ٹرانسپورٹ اور میٹریل کے علاوہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارہ سے آگ کی لپٹیں اٹھنی لگیں،جبکہ جائے حادثے پر کالے دھویں کے بادل دور دور تک دکھائی دئے۔ شوکت احمد نامی ایک مقامی باشندے نے بتایا ’’ میں اسی علاقے میں رہتاہوں،میں نے ہیلی کاپٹر کو  آگ کی لپٹوں میںنیچے ایک کھلی میدان میں آتے ہوئے دیکھا۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ زمین پر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔میں نے مقامی پولیس افسر کو فون پر مطلع کیا گیا۔اشفاق احمد نامی ایک اور مقامی شہری نے بتایا کہ5ائر فورس اہلکاروں کی نعشیں جائے وقوع سے کچھ میٹر دور تھی،جبکہ’’وہ بری طرح سے جلی تھیں۔‘‘ اس دوران پولیس اور فوج بھی جائے وقوع پر پہنچی اور صورتحال کا جائزہ لیکر بازیابی کے آپریشن میں جٹ گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر بچائو آپریشن کے دوران3نعشوں کو برآمد کیا گیا،جن میں ہیلی کاپٹر MI-17 کے پائلٹ،معاون پائلٹ اور ایک مقامی شہری کفایت احمد گنائی ولد محمد رمضان بھی شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ جونہی طیارہ حادثے کا شکار ہوکر زمین پر گر پڑا توحادثے سے 15سے20میٹر کی دوری پر کفایت اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ موبائل فون پر مصروف تھا جس کے نتیجے میں وہ حادثے کی زد میں آگیا۔  بدھ سہ پہر تک مجموعی طور پر7نعشوں کو تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے ملبے سے برآمد کیا گیا۔

حکام کا ردعمل

ڈی آئی جی وسطی کشمیر وی کے بریدی نے پائلٹ،معاون پائلٹ اور شہری سمیت7افراد کی واقعے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا گیاہے۔‘‘ پریس انفارمیشن بیورو کی طرف وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فضائیہ کے ایک Mi-17 V5،جس نے سرینگر ائر فیلڈ سے10بجے معمول کے مشن کی اڑان بھری تھی، یہ ہیلی کاپٹر بڈگام میں قریب10بجکر10منٹ پر گر کر تباہ ہوا،جبکہ اس میں سوار تمام6 فضائی اہلکارں کی موت واقع ہوئی۔‘‘تاہم’’واقعے سے متعلق کورٹ آف انکوائری کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘