بون اینڈ جوائنٹ کی آتشزدگی واردات

سرینگر //بون اینڈ جوائنٹ اسپتال برزلہ میں ہولناک آگ میں نئی بلڈنگ میں موجود 4چھوٹے تھیٹروں اور 50سے زائدبیڈوں کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن اس کے بائوجود بھی ایمرجنسی خدمات کو بحال کرنے میں تاخیر کی جارہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اگرچہ پیر کو او پی ڈی خدمات بحال کی لیکن ایمرجنسی اور معمول کی جراحیوں کو شروع کرنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ محکمہ آر اینڈ بی نے اسپتال کی پرانی بلڈنگ کی تیسری منزل کو غیر محفوظ قرار دیا ہے۔4مارچ کو اسپتال میں لگی ہولناک آگ میں اسپتال کی پرانی بلڈنگ کی تیسری منزل میں موجود ایمرجنسی آپریشن تھیٹر اور یونٹ فسٹ اور یونٹ سیکنڈ کے وارڈ جل کر خاکستر ہوگئے لیکن اسپتال کی پرانی بلڈنگ کے ساتھ 15سال قبل بنائی گئی نئی بلڈنگ میں ایمرجنسی یونٹ کے ساتھ منسلک 20بستروں پر مشتمل وارڈ، ایمرجنسی آئی سی یو، 12بستروں پر مشتمل ریکوری وارڈ ،12بستروں پر مشتمل ٹرائیج وارڈ اور چار چھوٹے تھیٹروں پر مشتمل مین تھیٹر کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہاں بغیر کسی خلل کے ایمرجنسی خدمات کو بحال کیا جاسکتا ہے۔پرنسپل جی ایم سی سرینگر ڈاکٹرسامیہ رشید نے کہا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آگ کی واردات کے دوران صرف 5فیصد مشینری کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 95فیصد مشینری اور آلات صحیح حالت میں ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مین تھیٹر کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا ہے اور یہاں ایمرجنسی خدمات بحال کی جاسکتی ہیں۔ ڈاکٹرسامیہ نے کہا ’’ مین تھیٹر ، ایمرجنسی اور وارڈ بلاک ٹھیک حالت میں ہیں،تاہم کویڈ کی وجہ سے مریضوں کو داخل نہیں کیا جاسکتا۔سامیہ رشید نے کہا کہ اسپتال کی نئی بلڈنگ میں ایک چھوٹے کمرے کو ایمرجنسی تھیٹر میں تبدیل کیا جارہا۔ ڈاکٹر سامیہ نے کہا ’’ہم ایمرجنسی اور معمول کی جراحیاں ایک ساتھ بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں ابھی 2سے 3دن کا وقت لگ سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پرانی بلڈنگ کی تیسری منزل کو انجینئروں نے غیر محفوظ قرار دیا ہے لیکن نچلی دو منزلوں کا ابھی معائنہ جاری ہے۔