بندوق چلتی ہے تو زخم لگتے ہیں

تقسیم برصغیر میں کشمیریوں کی کیا خطا تھی؟,ٹراول ایجنٹس ایسو سی ایشن آف انڈیا کنونشن سے وزیر اعلیٰ کا خطاب 

سرینگر//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست میں قیام امن کیلئے متبادل طریقہ کار عملانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بندوق کے جواب  میں بندوق سے صرف زخم لگتے ہیں،اور زخموںکا مرہم بھی ضروری ہے۔الیکٹرانک چینلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ چنلیں کشمیر کی صورتحال اس انداز سے پیش کرتی ہیںکہ لگتا ہے کہ سارا کشمیر جل رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سرینگر میں جھیل ڈل کے کنارے واقع ایس کے آئی سی سی میں ’ٹراول ایجنٹس ایسو سی ایشن آف انڈیا‘‘ کے سالانہ کنونشن کا افتتاح کیا۔ جس کے دوران وہ الیکٹرانک میڈیا چینلوں پر جم کر برسی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر میں کسی دور جگہ کوئی جھڑپ ہوتی ہے تو یہ میڈیا چینلیں یہ تاثر دیتی ہیں کہ شائد پورا کشمیر جل رہا ہے،مگر ایسا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا’’ ریپبلکن ٹی وی،انڈیا ٹو ڈے، نیوز ایکس،اور دیگر چنلیں اس طرح کشمیر سے متعلق خبریں پیش کرتی ہے،جیسے لگتا ہے کہ کشمیر آگ میں جل رہا ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ  بیرون ریاست لوگ بھی اس سے ڈر جاتے ہیں،اور سیاحوں سے کہتے ہیں،کہ آپ اسی کشمیر میں ہو ،جہاں یہ چنلیں اس طرح کے حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سخت ترین دور سے گزر رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ باہر سے لوگ ہمارا ہاتھ تھامنے کیلئے آئیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کو بڑا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،جس کی وجہ سے ریاست کا سیاحتی سیزن متاثر ہوتا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست کے حالات کسی سے چھپے نہیںہیں،مگر دنیا بھر میں بھی اس وقت حالات سنگین ہیں۔وزیر اعلیٰ نے تاہم ہندوستانی عوام سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کو الگ تھلگ چھوڑ دیا۔انہوں نے کہا’’ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ملک نے بھی ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حالات کو ٹھیک کرنے کے کئی طریقے ہیں،تاہم ہم صرف ایک ہی طریقہ کار اپناتے ہیں۔انہوں نے کہا’’ بندوق کا مقابلہ بندوق سے کرتے ہیں،اور جو زخم بندوق سے لگتے ہیں،اس پر مرہم بھی ضروری ہے،اور ہم ملک کے لوگوں سے اس کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ اور اپنے مرحوم والد مرحوم مفتی محمد سعید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ سیاحوں کے آنے سے امن میں مدد ملتی ہے،اور یہ ایک طرح امن قائم کرنے کی سرمایہ کاری ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وادی کے لوگ تنہائی محسوس کرتے ہیں،اور اس تنہائی کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا’’بندوق چلے گی،تو زخم بھی لگیں گے،اس لئے ہیلنگ ٹچ ضروری ہے،اور اس کیلئے ریاستی سرکار ہی تنہا کچھ نہیں کرسکتی‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک تقسیم ہوا،اس میں کشمیری عوام کا کوئی بھی قصور نہیں ہے،تاہم اس کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ریاستی عوام کو ہی کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا’’سرحدوں پر دراندازی ہو،صورتحال خراب ہو،سرحدی گولہ بارہی ہو،فوجی،فورسز یا پولیس اہلکار کے علاوہ یہاں کا شہری اور بچہ مریں،اس مصیبت کا سامنا بھی ریاست کو ہی کرنا پڑتا ہے‘‘۔کشمیر کو بھارت کا تاج قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مگر آج کل یہ تاج پھیکا پڑ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر جنت ہے اور یہاں کے آبشار،کوہسار،پہاڑ اور جنگلات نہ صرف قابل دید ہیں،بلکہ جموں کشمیر کی ثقافت،تہذیب ،میراث اور تنوع پوری دنیا میں نہیں ہوسکتا۔انہوں نے ٹراول ایجنٹوں کو اپنے کنبوں سمیت کشمیر کی حسین وادیوں اور خوبصورتی کا نظارہ کرنے کی دعوت دی۔وزیر اعلیٰ نے مرحوم مفتی محمد سعید کا حوالہ دیتے ہوئے  کہا’’مرحوم مفتی سعید کہتے تھے کہ جو اچھا کام کرتے ہیں،انہیں جنت ملتی ہے،مگر وہ جنت خوبصورت ہے،یا کشمیر کی جنت‘‘۔تین روزہ ٹی اے اے آئی کنونشن سرینگر میں 31برسوں کے وقفے کے بعد منعقد ہورہا ہے ۔ پچھلا ٹی اے اے آئی سرینگر میں 1987ء میں منعقد ہوا تھا ۔محبوبہ مفتی نے ملک کی ٹور انڈسٹری کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جموں وکشمیر سے متعلق منفی تاثر کو دور کریں ۔وزیراعلیٰ نے مندوبین سے اپیل کی ہے کہ وہ رشتوں کی اس ڈور کو ادھورا نہ چھوڑیں اور وہ اگلی مرتبہ اپنے افراد خانہ کو بھی ساتھ لائیں تاکہ وہ بھی یہاں کی مہمان نوازی ، خاطر داری اور یہاں کی صورتحال کے بارے میں تجربات حاصل کرسکیں۔محبوبہ مفتی نے محکمہ سیاحت اور ٹوروٹریول برداری کی طرف سے مل جل کر کام کرنے اور اس کنونشن کو یقینی بنانے کے لئے ان کی تعریف کی ۔وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ا س موقعہ پر ملک میں سیاحت سے جڑے مختلف شعبوں کی معروف شخصیات میں ایوارڈ بھی تقسیم کئے ۔سیاحت کے وزیر تصدق حسین مفتی نے اپنے خطاب میں کہاکہ جموں وکشمیر سیاحوں کو خطوں ، ثقافتوں اورکھان پان کے اعتبار سے دلچسپی کے کئی امور فراہم کرتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے دوران متعلقین کو محافظوں اور تحفظ کاروں کے طور پر کام کر کے ان اَقدار کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے ۔ اُنہوں نے شہری موبائلٹی، آبی ذخائر اور ماحولیاتی توازن کو تحفظ دینے جیسے پہلوئوں کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اُنہوںنے کہا کہ آج کے ٹی اے اے آئی کنونشن سے ریاست میں سیاحتی شعبے سے جڑے ارکان میں ایک اُمید جاگ گئی ہے ۔