بلیوارڑ روڑ مقامی لوگوں اور سیاحوں کیلئے ڈرائونا خواب

سرینگر// خستہ حال بلیوارڈ سڑک سیاحوں کیلئے کسی ڈراونے خواب سے کم نہیں ہے ،سڑک پر جگہ جگہ گہرے کھڈہیں اورسیاحوں کو سڑک پر سیر کرنے سے مایوسی ہو جاتی ہے ۔جھیل ڈل کی سیر کیلئے ملک اور بیرون ملک سے سیاح وادی آتے ہیں جبکہ مقامی سیاح شام کے دوران گرمی سے راحت پانے کیلئے جھیل ڈل پہنچتے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ بلیوارڑ سڑک کی خستہ حالت کی جانب انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے اور یہ سڑک گہرے کھڈوں سے بھری ہوئی ہے ۔نہرو پارک سے کرالہ سنگری تک 3برس قبل منظور ہوا  4گلیاروں والا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت سڑک پر جگہ جگہ گہرے کھڈے موجود ہیں۔سڑک پر مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر مقامی سیاحوں کا رش رہتا ہے۔ یہ سڑک ڈلگیٹ سے لیکر ہارون تک مختلف مقامات پر تباہ حالی کا شکار ہے اور انتظامیہ سڑک کی مرمت کی جانب کوئی دھیان نہیں دیتی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر ٹریفک کا کافی زیادہ دبائو رہتا ہے جبکہ ہزاروں گاڑیاں روزانہ سڑک پر چلتی ہیںجن میں سیاح بھی ہوتے ہیں اورکھڈوں کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔بیرون ریاست کے سیاحوں کا کہنا ہے کہ جس طرح ریاستی سرکار شہر کے دیگر علاقوں کی سڑکوں کی مرمت میں ناکام ہے ،اسی طرح بلیوارڑ سڑک کی جانب بھی کوئی خاص دھیان نہیں دیا جاتا ۔معلوم رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے سڑک کی نہ تو مرمت کی گئی اور نہ ہی اس پر تارکول بچھایا گیا ہے۔کولکتہ سے تعلق رکھنے والی ایک سیاح جانوی نے کہا لوگ خوشی اور شوق سے کشمیر آتے ہیں اور جو بھی سیاح پہلی بار کشمیر آتا ہے ،وہ ڈل جھیل کو دیکھنے کے بغیر نہیں لوٹتالیکن سڑک کی حالت ایسی ہے کہ اس پر نہ صرف بھاری رش ہے بلکہ یہاں ٹریفک جام بھی لگ جاتا ہے ۔راہل نامی ایک سیاح نے کہا کہ ’میں پچھلے دو برسوں سے جھیل ڈل کی سیر کوکنبہ کے ہمراہ آتا ہوں تاہم افسوس یہ ہے کہ سڑک کی مرمت کیلئے دو برسوں کے دوران بھی کوئی کام نہیں ہو سکا‘ ۔قابل ذکر ہے کہ سابق سرکار نے تین برس قبل بلیوارڑ سڑک کو 4گلیاروںوالابنایا جائے گا لیکن یہ منصوبہ بھی ٹھپ ہوتا نظر آرہا ہے۔ گذشتہ برس لاوڈا نے بھی نہرو پارک سے کرالہ سنگری تک اس کو چار گلیاروں والا روڑ بنانے کیلئے محکمہ آر اینڈ بی کو این او سی جاری کی تھی جبکہ سابق سرکار میں وزیر تعمیرات رہ چکے نعیم اختر نے بھی افسران کو اس سڑک پر جلد کام شروع کرنے کو کہا تھا جبکہ اس سڑک کیلئے فنڈس پہلے سے ہی دستیاب رکھے گئے تھے اور نہرو پارک سے کرالہ سنگری پروجیکٹ کیلئے 33کروڑ کا منصوبہ رکھا تھالیکن اس کام کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جاتا ۔