بلدیاتی نمائندوں اوروارڈ افسروں کے درمیان رسہ کشی

سرینگر// بلدیاتی ادارے سرینگر مونسپل کارپوریشن میں بلدیاتی نمائندوں اور وارڈ افسران کے درمیان آپسی خلفشار اور رسہ کشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے کہا ہے کہ عام لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کشمیر ٹریدرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدر حاجی محمد صادق بقال نے کہا کہ سرینگر مونسپل کارپوریشن آپسی رسہ کشی سے سیاسی اکھاڑے میں تبدیل ہوچکی ہے،جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں اور ملازمین کے درمیان خلفشار بڑھ رہا ہے اور آئے دن ملازمین ہڑتال پر جا رہے ہیں،جس کے نتیجے میں لوگوں کو جہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں،وہی بلدیاتی سہولیات بھی شہری عوام کو میسر نہیں ہوتیں ۔ بقال نے کہا کہ گزشتہ5ماہ سے اس ادارے میں سیاست کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا اور دھڑ ہ بندی و سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے بلدیاتی کام بھی ٹھنڈے بستے کی نذر ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ سٹی کا  خواب بھی اب قصہ پارینہ بن چکا ہیںاور شہری چاہتے ہیں کہ انہیں اپنا ہی شہر واپس دیا جائے،جیسے پہلے تھا،کیونکہ شہر کو اب کوڈے دان میں تبدیل کیا جاچکا ہیں۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدرنے الزام عائدکیاکہ سمارٹ سٹی پروجیکٹ کی مد میں50کروڑ روپے کی رقم کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیااور افسران بالا و سیاست دان مالی سال کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ رقومات فوت ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ اندرونی خلفشار اور چپقلش کی وجہ سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا اب ایس ایم سی میں روز کا معمول بن چکا ہے اور یہ سلسلہ اگر بند نہیں کیا گیا تو اس ادارے کی افادیت ہی ختم ہوگی۔ بقال نے کہامیئر اور ڈپٹی میئر کے بعد اب ڈپٹی میئر اور وارڈ افسران و بلڈنگ انسپکٹروں کے درمیان رسہ کشی ہے،جس کے نتیجے میں بلڈنگ انسپکٹر اور وارڈ افسران ہڑتال پر چلے گئے ہیںاور اس ہڑتال کا اثر براہ راست عام شہریوں پر پڑ رہا ہیں۔ بقال نے کہا کہ شہر کے تاجروں کو بھی سرینگر مونسپل کمیٹی میں آپسی تنازے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیںاور ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ بالخصوص کمشنر سیکریٹری شہری ترقی و مکانات سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کریںاور اس بلدیاتی ادارے کو سیاست کی نذر ہونے سے بچایا جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔