برقی رو کی عدم دستیابی | کورونامریضوں، تاجروں اور طلاب کیلئے سوہان روح | وادی میں بجلی کی ابتر صورتحال پر ٹریڈا لائنس کوتشویش

سرینگر//محکمہ بجلی کے کٹوتی شیڈول کوکشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے کشمیر ٹریڈ الائنس نے کہا کہ شہر سمیت پوری وادی کو محکمہ پی ڈی ڈی نے گھپ اندھیرے میں ڈبو دیا ہے ۔ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدارر نے کہا کہ برقی رو کی عدم دستیابی نے پوری وادی میں سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے اور صارفین کو بجلی فیس بغیر برقی رو کے ادا کرنے پر مجبور کرنے کے علاوہ اُن کے کنکشن منقطع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیاہے ۔انہوں نے کہاسورج غروب ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی کو گھپ اندھیرے میں ڈبونے کا سلسلہ محکمہ پی ڈی ڈی نے تیز کر دیا ہے جبکہ کٹوتی کے بارے میں پی ڈی ڈی محکمہ اپنے ہی شیڈول پر کاربند نہیں ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ڈی ڈی کے اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کٹوتی کا شیڈول منظر عام پر نہ لائے بلکہ دکھاوے کے نام پر صارفین کو برقی رو فراہم کرئے تاکہ محکمہ لوگوں کے غیض وغضب کا نشانہ نہ بنے ۔اعجاز شہدار نے کہا کہ وبائی بیماری کرونا وائرس کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں کو اس وقت گھر میں ہی آکسیجن فراہم کیا جاتا ہے تاہم بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں یہ مریض اور ان کے اہل خانہ سخت مشکلات سے دو چار ہیں،کیونکہ بجلی نہ ہونے کے سبب یہ مشینیں بھی بند پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیز اس وقت طلاب کے امتحانات بھی جاری ہیں،اور بجلی نہ ہونے کے نتیجے میں ان کی پڑھائی میں سخت خلل پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں عام صارفین بالخصوص تاجروں،صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہدار کا کہنا تھا’’ہرسال جھاڑے کے موسم میں برقی رو منقطع ہونا اب وادی کے لوگوں کا مقدر بن گئی ہے جبکہ صارفین کو اسے نجات دلانے کے سلسلے میں اگر چہ زور دار دعوئے اور وعدئے کئے جار ہے ہیں تاہم عملی طور پر اس سلسلے میں ابھی تک اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے کشمیر وادی میں لوگوں کوگوناگوں مصائب ومشکلات درپیش ہیں۔کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدرنے کہا کہ چھوٹے کارخارنہ دار برقی رو کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ وقت پر بیوپاریوں تک اپنا مال نہیں پہنچا سکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مالی خسارے کا بھی سامنا کرناپڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے طریقے سے شکایتیں کرتے ہیں کہ انہیں امتحان کے دنوںمیں برقی رو دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے کا موقع فراہم نہیں ہو تا ہے ۔ شہدار نے کہا ہر سال بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے ، نئے بجلی پروجیکٹ تعمیر کرنے کے بڑے بڑے دعوئے کئے جاتے ہیں ، سرکاری خزانے کا منہ بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر کیلئے کھول دیا جاتا ہے لیکن چکی کے وہی دو پاٹ اکتوبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی وادی کے لوگوں کیلئے مصائب و مشکلات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔شہدا کا کہنا تھا کہ باریک ترسیلی لائنوں کی مرمت کرنا لوگوں کا کام نہیں ہے ،بوسیدہ کھمبوں کو تبدیل کرنا عوام کی ذمہ داری نہیں ہے ۔شہدار نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پی ڈی ڈی کے اہلکار بہتی گنگا میں ہاتھ ڈبو کر اپنے لئے شکم سیری کا سامان پیدا کر رہے ہیں جبکہ الزام صارفین پر لگایا جا رہا ہے کہ وہ ایگریمنٹ سے زیادہ بجلی کا استعمال کر رہے ہیں ۔اعجاز احمد شہدار نے کہا کہ کہ محکمہ پی ڈی ڈی دن بدن وادی کے لوگوں کیلئے وبال جان بنتا جارہا ہے،جبکہ ستم ظریفی کا یہ ہے کہ اب ہر ایک گھنٹے کے بعد بجلی 15منٹوں تک منقطع کی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی پریشانیوںمیں مبتلا ہورہے ہیں۔