بدھ کو کورونا وائرس متاثرہ ممالک سے 136 کشمیری لوٹ آئے

سرینگر //پچھلے 40دنوں میں پہلی مرتبہ جموں و کشمیر میں 506افراد کو نگرانی کے دائرے میں لایا گیا ہے جبکہ چین ، کوریا، ایران، انڈونیشیاء، ملیشیاء اور جنوب مشرقی ممالک سے واپس آنے افراد میں سے 1211کو سرولنس پر رکھا گیا ہے جن میں968افراد کو گھروں میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے جبکہ64افراد کے خون کے نمونے تشخیص کیلئے بھیجے گئے ہیں جن میں 35کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ ادھر بدھ کو زیرنگرانی لائے گئے 506افراد میں سے ابتدائی علامات کے بعد مزید 3افراد کو اسپتال داخل کیا گیا ہے اور اس طرح جموں و کشمیر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج افراد کی تعداد 12ہوگئی ہے جن میں 7افراد شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے سرولنس وارڈ میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے تاہم  ان سبھی کی تشخیصی رپورٹ منفی آئی ہے۔ سرکار کی جانب سے فراہم کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق بدھ کو جموں و کشمیر میں 506افراد کو نگرانی کے دائرے میں لایا گیا اور اسطرح ابتک جموں و کشمیر میں زیرنگرانی رہنے والے افراد کی تعداد 1211 تک پہنچ گئی ہے ۔ 
بدھ کو سب سے زیادہ 477افراد کو گھروں میں زیرنگرانی رکھا گیا ہے۔جموں و کشمیر آنے والے افراد میں سے مزید 3افراد کو ابتدائی علامات کے بعد نگرانی کیلئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ 1211افراد میں سے 150افراد 28دنوں کی نگرانی مدت مکمل کرچکے ہیں جبکہ 968افراد کو ابھی مدت پوری کرنا باقی ہے جبکہ 81افراد کو گھروں میں ہی سرولنس پر رکھا گیا ہے۔ بدھ کو کل 64افراد کے خون کے نمونے تشخیص کیلئے بھیجے گئے تھے جن میں 28کی رپورٹ منفی ، ایک کی رپوٹ مثبت اور 35کی تشخیصی رپوٹ ابھی آنا باقی ہے۔ ادھر کشمیر میں وبائی بیماریوں پر نظر گزر رکھنے والی ڈاکٹرا فشان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سرینگر ایئرپورٹ پر بدھ کو بھارت کی مختلف ریاستوں سے 1377افراد پہنچے ۔ اس کے علاوہ 136کشمیر ی کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک چین، ایران ، جنوبی کوریا اور دیگر جنوب مشرقی ممالک سے وادی پہنچے ۔ انہوں نے کہا ’’یہ سب کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کے ان اضلاع یا ریاستوں سے آئے ہیں جہاں کرونا وائرس کا ابھی زیادہ اثر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے تمام افراد کو محکمہ صحت نے زیرنگرانی رکھا ہے۔ میڈیکل سائنسز صورہ میںکرونا وائرس سے متاثرہ ممالک ایران، چین، کوریا ، ملیشیاء اور دیگر ممالک سے آنے والے 7افراد کو سرولنس وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ بدھ کو سکمز میں کسی بھی ایسے شخص کو داخل نہیں کیا گیا جس نے حال ہی میں کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کا سفر کیا ہو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سکمز کے سرولنس وارڈ میں ابھی  صرف 7ایسے افراد زیر نگرانی ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کا سفر کیا ہے مگر ان ساتوں کے تشخیصی رپورٹ منفی آئے ہیں اور انہیں نگرانی کی 14دن کی مدت پوری کرنے کیلئے سرولنس وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر جان نے کہا ’’ کشمیر میں ابتک کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور اس لئے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
 
 

 سیاحتی مقامات،بس اڈوں، نہرو پارک، مغل باغات

پانتہ چھوک اور پارمپورہ میں سیکریننگ کیمپ قائم کرنے کی ہدایت 

سرینگر//صوبائی انتظامیہ نے ٹی آر سی،نہروپارک،مغل باغات اور دیگر سیاحتی مقامات کے علاوہ پانتہ چوک ،پارمپورہ اورٹیکسی وبس اڈوں پر دن رات کام کرنے والے سیکریننگ کیمپوں کا قیام عمل میں لانے کی ہدایت دی گئی۔صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے کہا ہے کہ ایساسیاحوں اور مسافر کی آمد کا مناسب اندراج کرنے کیلئے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں اور وادی کا سفر کرنے والے مسافروں پر لازم ہے کہ وہ ان کیمپوں میںسیلف ڈیکلریشن فارم پُر کریں۔سیکریننگ کیمپوں میں ڈاکٹروں کے علاوہ طبی تیکنیکی عملہ ٹیسٹنگ آلات کے ساتھ دستیاب رہے گا ۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ گلمرگ علاقے کے گنڈولہ احاطے میں پچھے چاروز کے دوران6000سے زیادہ لوگوںکی سیکریننگ کی گئی۔صوبائی کمشنر نے ہوٹل والوں اور ٹرانسپورٹروں پر زوردیا کہ وہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کے بارے میں پوری جانکاری فراہم کریں اور اگر کسی کو بھی وائرس سے متاثر پایا گیا تو اس کی جانکاری نزدیکی صحت ادارے کو دی جائے۔اس دوران متعلقہ آفیسران سے کہا گیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے متعلق انگریزی اور اردو میں ایڈوائزری کتابچے حاصل کرکے ہوٹل اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنوں میں تقسیم کریں تاکہ ان کتابچوں کو ہر ایک ہوٹل،ریسٹورنٹ، ٹی سٹالوں،بس اڈوں اور سیاحتی مقامات پرعوامی جانکاری کے لئے تقسیم کیاجائے۔صوبائی کمشنر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے مشن موڑ کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں ۔انہوںنے متعلقین پر عوامی تحفظ کے لئے تعائون دینے پر زوردیا ہے۔
 
 

چین، اٹلی، کوریا ، ایران اور ملیشیاء سے واپس آنے والے خود نگرانی کریں: ایڈوائزری

 سرینگر //مرکزی سرکار نے منگل کی شام جاری کی گئی اضافی ایڈوائزری میں فرانس ، جرمنی اور اٹلی کے ان تمام شہریوں کے ویزے معطل کردیئے ہیں جنہیں 11مارچ 2020کو بھارت پہنچنا تھا۔ مرکزی سرکار کی جانب سے جاری کی گئی اضافی ایڈوائزری میں  کہا گیا ہے کہ بھارت کے ان  تمام شہریوں کو گھروں میں خود نگرانی کرنی چاہئے جو حالیہ دنوں میں چین، اٹلی ، کوریا، ایران، ملیشیاء اوردیگر جنوب مشرقی ریاستوں سے واپس آئے ہیں۔ مرکزی سرکاری کی اضافی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر ان افراد میں سے کوئی کسی تنظیم یا دفتر میں کام کرتا ہے تو انہیں گھر میں ہی کام کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ ایڈوائزری میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایڈوائزری سے پہلے بھارت پہنچنے والے سیاحوں کے ویزے قائم رہیں گے جبکہ اس حوالے سے بیرو آف امگریشن ایک علیحدہ نو ٹیفکیشن جاری کی جائیگی۔