بانہال // ضلع کٹھوعہ کے رسانہ علاقے میں قتل اور عصمت دری کے ملوثین کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کو لیکر جموں سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں نیشنل کانفرنس کی طرف سے آج احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور لعل سنگھ اور چندرپرکاش کنگا سمیت کانگریس کے غلام احمد میر کے پتلے نظر آتش کئے۔ مظاہروں کی قیادت نیشنل کانفرنس کے ضلع صدر سجاد شاہین نے کی اور سینکڑوں کی تعداد میں نیشنل کانفرنس ورکر اس میں شامل ہوئے ۔ احتجاجی ریلی میں شامل لوگوں نے شاہراہ پر کئی چکر لگائے اور کٹھوعہ واقع میں ملوث افراد کو سزائے موت اور معصوم لڑکی کو انصاف فراہم کرنے کی عبارات درج کئے بینر اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر بانہال کے علاوہ رامسو کے علاقوں سے بھی لوگ احتجاج میں شامل ہونے کیلئے بانہال پہنچے تھے۔ اس موقع پر بانہال بس سٹینڈ میں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس لیڈر سجاد شاہین نے کٹھوعہ واقع اور اس پر سیاست کرنے والوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقع نے انسانیت اور پورے ملک کو دنیا کے سامنے شرمسار کیا ہے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد کٹھوعہ واقع تاریخ کا ایک بدترین واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ، پی ڈ پی اور کانگریس تقسیم کی سیاست کرکے اس کیس کو مذہبی اور فرقہ پرستی کا رنگ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کی دوغلی پالیسی اور جموں بند کی حمایت کرنے کیلئے کانگریس جماعت اور اس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کے متنازعہ بیان کی مذمت کی ا ور کہا کہ ان کی یہ کوشش ملزموں کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے جموں کے تاجروں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ جموں کے تاجروں نے بار ایسوسی ایشن جموں کی کال کی حمایت نہ کرکے انسانیت کی مشال قائم کی ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی اعلی قیادت کی طرف سے ریپ کے معاملے میں سزائے موت کا بل اسمبلی میں لانے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں ملوث درندوں کی سزا موت ہی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کٹھوعہ کے ملزموں کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقع اور اس کی حمایت کرنے والے الگ تھلگ ہوکر رہ گئے ہیں اور کٹھوعہ واقع پوری دنیا کا موضع بنا ہوا ہے۔ اس موقع پر مظاہرین نے شاہراہ پر احتجاجی مظاہروں کے بعد بس سٹینڈ بانہال میں بھاجپا لیڈر اور سابقہ وزیر چودھری لعل سنگھ ، چندر پرکاش کنگا اور کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کے پتلے نظر آتش کئے جبکہ مظاہرین مخلوط سرکار اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کچھ وقت کیلئے متاثر رہی اور مظاہرے ختم ہوتے ہی شاہراہ معمول کا ٹریفک بحال کیا گیا۔ امن وقانون کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کی طرف سے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے تاہم نیشنل کانفرنس کی ریلی اور احتجاجی مظاہرے پرامن طریقے سے ختم ہوئے۔