بار ٹیم کا سینٹرل جیل سرینگر کادورہ

 
سرینگر//جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک ٹیم نے جمعرات کو سرینگر سینٹرل جیل کادورہ کرکے وہاں قیدیوں اور جیل حکام سے یکم اپریل 2019کو پیش آئے واقعہ کی جانکاری حاصل کی۔ایک بیان کے مطابق نائب صدر اعجاز بیدار،جنرل سیکریٹری محمداشرف بٹ،جوائنٹ سیکریٹری عادل عاصمی، ایگزیکیٹو ممبران رفیق احمد جو اورارشد اندرابی پر مشتمل ایک ٹیم نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی ایک عرضی پر جاری کئے گئے احکامات کے مطابق سینٹرل جیل سرینگر کادورہ کرکے وہاں جیل حکام اورقیدیوں کے ساتھ ملاقات کی۔بیان کے مطابق جیل کے سپرانٹنڈنٹ مکیش کمار، ایڈیشنل ایس پی جوفروری2018میں جیل کے سپرانٹنڈنٹ تعینات کئے گئے ہیں،نے یکم اپریل کو پیش آئے واقعات کی تفاصیل بیان کی۔بار ممبرا ن کے مطابق جیل سپرانٹنڈنٹ جیل کے انتظام اورانصرام میں بہتری لانے کے خواہاں تھے اور وہ دو چھوٹے کیبن جو تیس چالیس برس پہلے تعمیر کئے گئے ہیں کو منہدم کرنے کے خواہاں تھے جس کی قیدیوں نے مزاحمت کی۔ بار ممبران کے مطابق اس واقعہ کے بعد جیل حکام اور قیدیوں کے درمیان رابطہ بالکل منقطع ہے اور گزشتہ دس روزکے دوران قیدی کسی رشتہ داریا دوست سے نہیں ملے ۔قیدیوں کو اخبار،ٹیلی ویژن یا ریڈیو کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے بار ممبران سے بھی ملنے سے انکار کیا تھا۔ جیل سپرانٹنڈنٹ نے قیدیوں کے ساتھ ہمدردی دکھاتے ہوئے پہلے بار ممبران اور اُ نکے درمیان ملاقات کاانتظام کرنے میں اپنی لاچاری کااظہار کیا تاہم کافی مشکل اورانتظار کے بعدبارممبران قیدیوں سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔15کی تعدادمیں جن اسیروں نے بار ممبران سے ملاقات کی وہ کافی تنائومیں اور خوفزدہ تھے اور کچھ کچھ مغلوب دکھائی دے رہے تھے ۔انہوں نے یکم اپریل کو پیش آئے واقعات کی تفصیل یوں بیان کی کہ اُس دن جیل سپرانٹنڈنٹ نے اُنہیں دن کے بارہ بجے بلایااور اُنہیں بارک نمبر1Aاور1Bخالی کرنے کو کہا کیونکہ اِن میں کچھ تعمیر وتجدیدکرنا تھی۔قیدیوں نے تجویزدی کی کہ پہلے بارک1Aکوخالی کیاجائے اور اس میں کام مکمل ہونے کے بعد بارک1B میںکام شروع کیاجائے جو جیل سپرانٹنڈنٹ نے نہیں مانا۔انہوں نے دونوں بارکوں کو تین دن کے اندر خالی کرنے کی مہلت دی۔قیدیوں نے جیل سپرانٹنڈنٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے بارکیں خالی کیں اور اپنا سامان کیبنوں میں رکھا۔ تیسرے روز قیدیوںنے بارک نمبر3اور4جو بارک1A۱ور1B کے متصل ہیں سے شور سنااور وہاں جیل حکام اُن کیبنوں کو منہدم کررہے تھے جن میں قیدیوں نے اپناسامان رکھا ہواتھا۔اس سامان میں اور چیزوں کے علاوہ قران پاک اور مذہبی کتابیں بھی شامل ہیں ۔ قیدیوں نے اپنا سامان کسی دوسری جگہ لیجانے کے لئے وقت مانگاجس سے انکار کیاگیا ۔قیدیوں کے مطابق انہوں نے جیل بارکوں یا کیبنوں کے منہدم کئے جانے پر اعتراض نہیں کیا۔لیکن حکام نے اُن کی نہ سنی اور انہدامی کارروائی جاری رکھی۔اس سے قیدی مشعل ہوگئے اورانہوں نے نعرے بازی کی۔جیل حکام نے ایس ایچ اورعنا واری کی قیادت میں مقامی پولیس کو بلایااور سی آر پی ایف کی بھاری نفری بھی بھیجی جنہوں نے قیدیوں کی بری طرح مارپیٹ کی ۔ قیدیوں نے کہا کہ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر سرینگر اور ڈسٹرکٹ سیشن جج سرینگر سمیت متعددحکام نے جیل کادورہ کیا لیکن ابھی تک جیل میں قیدیوں کی حالت بہتربنانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کئے گئے۔قیدیوں سے ملاقات کے بعد بار ممبران نے محسوس کیا کہ جیل میں قیدیوں کو اُن کے سیاسی خیالات اور نظریات کی بنا پرمعاندانہ رویہ کا سامنا ہے اور اُنہیں محسوس ہورہا ہے کہ اُن کے خلاف سازش کی گئی ہے ۔قیدیوں کوخدشہ ہے کہ  ان کی نظر بندی کوطول دینے کیلئے اُنہیں ریاست سے باہر کی جیلوں میں منتقل کیاجائے گا۔قیدیوں نے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے اور قیدیوں کیخلاف طاقت کااستعمال کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔بار ممبران اپنی رپورٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کو پیش کریں گے ۔