بارہمولہ کی نشست ہم نے جیت لی

 سرینگر//پیپلز کانفرنس چیئرمین سجاد غنی لون نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ عمر عبداللہ یا تو اچانک شوخ طبع بن چکے ہیں یا پھر وہ زمین سے رابطہ کھوچکے ہیں۔انہوںنے کہا’’نیشنل کانفرنس نے بارہمولہ الیکشن ہارئے ہیں۔پیپلز کانفرنس نے یہ نشست بڑے مارجن سے جیت لی ہے۔ جہاں ہم عاجزی کی وجہ سے خاموش ہیں ،شکست خوردہ نے جیت کے نقارے اس خوف کی وجہ سے بجانے شروع کر دئے ہیں کہ کہیں سرینگر پارلیمانی حلقہ میں بھی بارہمولہ کی شکست نہ دہرائی جائے۔ہم نے سچائی کے ایجنڈا پر یہ الیکشن لڑے اور نیشنل کانفر نس کی جانب سے پھیلائے گئے بدترین قسم کی دروغ گوئی کا سامنا کررہے تھے۔ایک دن این سی یہ اعلان کرتی کہ وہ صدر ریاست اور وزیراعظم کا عہدہ بحال کررہے ہیں اور دوسرے دن کہتے کہ وہ پی ایس اے ختم کررہے ہیں۔یہ وہی نیشنل کانفرنس ہے جس کے قائد سابق وزیراعظم شیخ صاحب نے 1975میں اقتدار کے عوض خوشی خوشی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا۔یہ وہی نیشنل کانفرنس ہے جس نے1975میں آئینی حکم نامہ 101محرر23جولائی1975منظور کرکے ریاستی خصوصی پوزیشن کو شدید زک پہنچائی۔یہ وہی نیشنل کانفرنس ہے جس نے لینڈ گرانٹس بل کا مسودہ تیا ر کیا اور یہ وہی نیشنل کانفرنس ہے جس نے دفاعی تنصیبات کو ہزاروں کنال اراضی پٹے پر دینے کی راہ ہموار کردی‘‘۔سجاد نے کہا کہ اقتدار سے باہر ہوکر نیشنل کانفرنس اْن کیخلاف سازشیں رچائے جانے کا پروپگنڈا شدت سے چلارہی ہے۔اْن کا کہناتھا’’کشمیریوں کے خلاف رچائی جانے والی سب سے بڑی سازش خود نیشنل کانفرنس رہی ہے۔دہلی نے این سی کے ساتھ مل کر ان کو اقتدار میں رکھنے کیلئے ایک پورے الیکشن عمل کو دھاندلی زدہ کیا اور جب لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑ ے ہوئے تو یہ بنیادی طور پر این سی کیخلاف بغاوت تھی۔کیا این سی بھول چکی ہے کہ وہ اپنے لیڈر فاروق عبداللہ کے ساتھ 1989میں ریاست سے بھاگ گئے اور اپنے ورکروں کو پیچھے یہاں چھوڑ دیا؟۔کیا وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ لفظ نیشنل کانفرنس 1989میں بدنما داغ بن چکاتھا؟۔کیا وہ یہ بھی بھول چکے ہیںکہ کس طرح این سی ورکر اخبارات میں پارٹی سے اپنی لا تعلقی سے متعلق بیانات شائع کرواتے تھے ؟۔1987
میں چناوی دھاندلیوں کے نتیجہ میں1989کی بغاوت کے پس منظر میں این سی لیڈ ر شپ کشمیر چھوڑ کر چلی گئی جبکہ ہم سب یہاں زیادتیاں جھیل رہے تھے ،جیل جارہے تھے،مارے جارہے تھے اور زد وکوب کیاجارہا تھا۔فاروق عبداللہ اور کشمیرکے اْس وقت کے مستقبل کا ستم گرعمر عبداللہ نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور دہلی میں گزارا۔اْن خاص سیاحوں کو1996میں ایکبار پھر کشمیری عوام پر ٹھونسا گیا اور ایک بارپھر انہیں اقتدار پلیٹ میں دینے کیلئے پورا الیکشن عمل ہی چوری کیاگیا‘‘۔ سجاد لون نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کی سیاست کی بنیاد خوشنودی کے ہنر پر قائم ہے۔اْن کاکہناتھا’’ایک پارٹی اور ایک خاندان ،جس کا رونگ رونگ انہیں تحفظ بخشنے کیلئے دلّی کا مقروض ہے۔1975میں انہیں اقتدار میں لانے کیلئے،1987میں ان کیلئے چنائو دھاندلیاںکرنے کی خاطراور 1996میں انہیں دوبارہ اقتدار میںلانے کیلئے کیا کبھی بھی وہ دلّی کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈالنے کی ہمت کرپائیں گے ؟۔وہ36سال تک اقتدار میں رہے۔کیا وہ ہمیں ایک ایسی مثال دکھا سکتے ہیں جہاں انہوں نے دلّی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرحقیقی دفاع کا مظاہرہ کیا؟۔وہ جبری تابعداروںمیں سے ہیں۔کیا ہم بھول چکے ہیں کہ ایل کے ایڈوانی نے اپنی کتاب میں کیالکھا ہے ؟۔جب فاروق عبداللہ کو اٹانومی قرارداد پر بحث اور عمر عبداللہ کیلئے جونیئر مرکزی وزارت میں سے ایک کا انتخاب کرنے کیلئے کہاگیا تو انہوں نے جونیئر عبداللہ کیلئے جونیئر منسٹری کو اٹانومی پر ترجیح دی‘‘۔سجاد لون نے کہا کہ سرینگر کے میئر جنید متو کے خلاف فاروق عبداللہ کے الفاظ شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔اْن کا کہناتھا’’عمر میں فرق کا تصور کریں۔فاروق عبداللہ 80کی دہائی میں ہیں جبکہ جنید مشکل سے 30کی دہائی میںہیں۔کیا یہ فاروق صاحب کو زیب دیتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ قبر میں اس کو کیڑے کھائیں گے،کیا انہیںیہ کہنا زیب دیتا ہے کہ وہ اپنی قبر بھول چکے ہیں۔یہ فاروق عبداللہ ہیں جنہوںنے ہمیشہ قبربھول رکھی ہے۔الیکشن لڑنے کی بجائے انہیں کسی مسجد میں مصلح لیکر نمازوں میں وقت گزارنا چاہئے تھاتاہم افسوس کہ اس کے برعکس وہ ایک نوجوان کے خلاف ایسی باتیں کررہے ہیں جو عنفوان شباب میں ہیں۔ہمیں فاروق عبداللہ کی ان باتوںپر کوئی حیرانی نہیں ہے کیونکہ ان کے ہاتھوں ہزاروں نوجوان در گور کئے جاچکے ہیں۔پھر بھی ہماری فاروق عبداللہ کیلئے یہ نصیحت ہے کہ وہ اگر آپ کے پاس جائے نماز ہے تو اس پر بیٹھ کر اللہ اللہ کریں اور ہر وقت اللہ کو یاد کریں کیونکہ آپ کو اپنے گناہوںکی توبہ حاصل کروانے کیلئے سینکڑوں سال لگ جائیں گے‘