بارہمولہ میں3نوجوانوں کی ہلاکت کا معاملہ : پولیس کا حل کرنے کا دعوی،4جنگجوئوں سمیت10گرفتار

بارہمولہ //شمالی قصبہ بارہمولہ کے اولڈ ٹاون علاقے میں گزشہ ماہ کے آخر میں مارے گئے 3 شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے کہا ہے کہ سبھی ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ شمالی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) سنیل گپتا ، ڈی آئی جی سی آر پی ایف اور ایس ایس پی بارہمولہ نے بدھ کو بارہمولہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارہمولہ میں گرفتار کئے گئے 4جنگجو 3 مقامی نوجوانوں کی حالیہ ہلاکت کے واقعہ میں ملوث ہیں۔ پولیس نے ان کے 6 اعانت کاروں کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے گرفتار کئے گئے جنگجوؤں کی شناخت بلال احمد نجار، اعجاز احمد گوجری، ندیم کالیا اور ناصر احمد موچی کے طور پر کی ہے۔ واضح رہے کہ 30 اپریل کو نامعلوم بندوق برداروں نے اولڈٹائون بارہمولہ میں خانپورہ پُل کے نزدیک شام دیر گئے ٹارگٹ فائرنگ کرکے 3 مقامی نوجوانوںعرفان شیخ عرف آصف احمد شیخ ولدعلی محمدشیخ ساکنہ محلہ سعیدکریم، حسیب احمد خان ولدغلام نبی خان اور محمد اصغرشیخ عرف افسرشیخ ولدمشتاق احمدساکنان محلہ کر حمام بارہمولہ کو موت کی ابدی نیند سلا دیا تھا۔ پولیس نے ان کی ہلاکت کیلئے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ جس کے بعد بارہمولہ پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا تھا ’3 شہریوں کی ہلاکت میں ایک پاکستانی اور2مقامی جنگجو ملوث ہیں،جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے‘۔ ڈی آئی جی شمالی کشمیر سنیل گپتا نے کہاکہ لشکر طیبہ کے ان (گرفتار شدہ) جنگجوؤںنے ہی3 نوجوانوں کو ہلاک کیا‘۔ انہوں نے کہا ’لشکر طیبہ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بارہمولہ سوپور بیلٹ میں جنگجویانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا جائے‘۔تاہم انہوں نے کہاکہ ’ بارہمولہ کے لوگ امن پسند ہیں اورامن کو برقراررکھنے کیلئے بارہمولہ کے لوگ گذشتہ3 برسوں سے ہماری مدد کرتے آئے ہیں‘۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ گرفتار شدہ جنگجوؤں اور ان کے اعانت کاروں سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود برآمد کیا گیا ہے جس میں  2اے کے رائفلیں ،چینی ساخت کے2پستول،4ہتھ گولے یاگرینیڈ،گولیوں کے50رائونڈ،اے کے رائفل کے4میگزین اورپستول کے2میگزین بھی شامل ہیں ۔ڈی آئی جی شمالی کشمیرکاکہناتھاکہ دوران چھاپوں کے دوران گرفتارکئے گئے تین مقامی جنگجوئوں شعیب احمدآخون عرف ابوہریرہ ولدفاروق آخون ساکنہ خانپورہ بارہمولہ ،اعجازاحمدگوجری عرف ابوعمیرولدعبدالرحمان ساکنہ محلہ جامع بارہمولہ اوربلال احمدنجارعرف ابوسمیرولدغلام احمدنجارساکنہ بنگلہ باغ بارہمولہ نے دوران تفیش اس بات کاخلاصہ کیاکہ کیسے انہوں نے تین معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کامنصوبہ بنایا۔انہوں نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ بلال نجارنے تینوں مہلوک نوجوانوں کی نقل وحرکت پرنظررکھی یارکھوائی ،جسکے بعدبلال نجارنے شعیب اوراعجازکیساتھ ملکر30اپریل کوشام دیرگئے تین معصوم نوجوانوں کونزدیک سے اے کے رائفل اورپستول کی گولیوں کانشانہ بناکرموت کی نیندسلادیاجبکہ ان تینوں جنگجوئوں کویہاں پہنچنے کیلئے عذیربٹ ولدمحمدامین بٹ ساکنہ چستی کالونی بارہمولہ نے ایک آلٹوکارزیرنمبرJK01J-0010فراہم کردی ۔انہوں نے مزیدکہاکہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ایک لڑکا جس کا نام ندیم ہے اور جس کا کوڈ نام ابو اسامہ ہے، وہ پورے ماڈیول کی سرپرستی کررہا تھا۔