بارشوں کا پانی صحنوں میں داخل سوپور کی بیشترکالونیاں زیر آب،حاجن میں عبور ومرور مشکل

 راجا ارشاد احمد+غلام محمد

حاجن ۔سوپور//برفباری اور رحمت باران ہونے سے جہاں طویل خشک سالی سے وادی کشمیر کو راحت محسوس ہوئی وہیں حاجن سوناواری کے متعدد علاقوں میں بارشیں ہونے سے گلی کوچوں اور صحنوں میں سیلابی صورتحال پیش آگئی ہے۔حاجن سے ملحقہ میر محلہ میں پچھلے تین دنوں سے مسلسل بارش کی وجہ سے گلی کوچوں اور صحنوں میں پانی بھر جانے سے مکینوں کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وارڈ 3 میر محلہ حاجن کے مکینوں نے علاقے میں نکاسی آب کا ناقص نظام ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی نے انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔نظیر عبداللہ نامی شہری نے بتایا کہ پچھلے چار دنوں کی مسلسل بارش کے بعد میر محلہ کی اندرونی رابطہ گلی کوچوں اور صحنوں بارش کا پانی جمع ہو گیا چونکہ علاقہ میں نکاسی آب کا نظام معقول نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

مسجد خدام کے قریب واقع میر محلہ میں بھی پانی جمع ہوگیا ہے۔ اگر بارشوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پانی رہائشی مکانوں میں داخل ہوجائے گا. پانی جمع ہونے کے باوجود میونسپل کمیٹی یا ضلع انتظامیہ کی طرف سے کسی نے بھی پانی نکالنے کے لیے اس علاقے کا دورہ نہیں کیا۔ادھرسوپور قصبے کے بیشتر رہائشی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ سوپور کا ماڈل ٹاؤن، بادام باغ، تلیبل، نیو کالونی، شیر کالونی، الصفا کالونی، مہاراج پورہ، نورباغ اور دوسرے علاقے بارش کے پانی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس سے عوامی نقل و حرکت محدود ہے۔ماڈل ٹاؤن کے ایک باشندے نے بتایا کہ ’’ہمیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کے لیے لمبے جوتے پہننے پڑے کیونکہ اندر کی ساری سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔‘‘قصبہ کے ان رہائشی علاقوں کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ اعلیٰ حکام کی بے عملی کی وجہ سے بار بار یہ حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ مقامی رہائشی مشتاق احمد نے کہا کہ “سڑکوں اور گلیوں سے پانی نکالنے کے لیے کوئی ڈی واٹرنگ پمپ استعمال نہیں کیا گیا اور انتظامیہ نے لوگوں کو ان کی مشکلات سے نکالنے کے لیے کم سے کم اقدامات کیے ہیں”۔مکینوں نے کہا کہ پورے سوپور شہر میں نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے پانی جمع ہونا ان کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان کی گلیوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے وہ گھروں سے باہر نہیں جا سکتے۔