بادل پھٹنے اور چھت گرنے سے4لقمۂ اجل

اشفاق سعید +ارشاد احمد+عارف بلوچ
سرینگر+بڈگام+اننت ناگ //جموں وکشمیر میں پیر کے روز تیز رفتار آندھی نے متعدد علاقوں میں تباہی مچادی، جسکے ساتھ ہی ژالہ باری سے میوہ باغات تباہ ہوئے۔اس دوران بڈگام میں بادل پھٹنے سے اینٹ بھٹہ پر کام کررہے اتر پردیش کے 2سگے بھائی والدہ سمیت لقمہ اجل بن گئے جبکہ بو ٹیگو اننت ناگ میں آندھی چلنے سے ٹین کی چادر ایک خاتون پر گری جس سے وہ جاں بحق ہوئی اور گاندربل میں اسی طرح کے واقعہ میں ایک خاتون زخمی ہوئی۔ شمالی کشمیر کے سوپور، بانڈی پورہ، جنوبی کشمیر کے ترال، بجبہاڑہ، اننت ناگ اور وسطی کشمیر کے گاندربل علاقے میں تیز رفتار آندھی سے متعدد مکانوں، اور دکانوں کی چھٹیں اڑ گئیں، درجنوں کی تعداد میں بجلی کے کھمبے اور سینکڑوں درخت اکھڑ گئے۔

وسطی کشمیر

پیر کو وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں اینٹوں کے بھٹے کے قریب بادل پھٹنے سے تین غیر مقامی مزدوروں کی موت ہو گئی۔ چاند پورہ میں ایک اینٹوں کے بھٹے کے قریب بادل پھٹ گیا جہاں تین غیر مقامی مزدور کام کر رہے تھے۔واقع میں لقمہ اجل بنے2مزدور بھائیوں کی شناخت45سالہ بوری بیگم زوجہ محمد سلیم منصوری، اسکے دو فرزند 21سالہ محمد رئیس  اور 17سالہ قیص کے طور پر ہوئی۔تینوں اتر پردیش کے ضلع بریلی کے رہنے والے ہیں۔ تینوں کی لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے ضلع ہسپتال بڈگام منتقل کیا گیا۔ادھر گاندربل میں ایک الگ واقعہ میں 25 سالہ شکیلہ بانو زوجہ فردوس احمد میر ساکن لار گاندربل اس وقت زخمی ہوئیں جب  زیارت شاہ صاحب قلندر کے گارڈ روم کی چھت اڑ گئی جس سے خاتون زخمی ہوگئی۔ سرینگر کے اشبر علاقے میں فیاض احمد راتھر نامی ایک شہری کے مکا ن کی چھت تیز آندھی کی وجہ سے زمین پر گر گئی ۔ادھر پائین شہر میں ملک صاحب گوجوارہ میں تیز ہوائوں کے باعث غلام رسول میر ،غلام محی الدین میر اور غلام احمد میر کے مکانوں کے چھت اڑا گئے اور ان کنبوں کو بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔

جنوبی کشمیر

 اننت ناگ کے بوٹینگو کھنہ بل علاقے میں پیر کو تیز ہوائوں کے دوران چھت سے اڑی ٹین کی ایک چادر کی زد آکر 34 سالہ خاتون کی موت ہوگئی۔ خورشید احمد کی اہلیہ مینو جان، تیز آندھی کے دوران ٹین کی چادر کے نیچے آگئی اور اُسے شدید چوٹیں آئیں۔ اسے جی ایم سی اننت ناگ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ ادھر سریگفوارہ اننت ناگ میں تیز آندھی چلنے سے ایک درجن کے قریب درخت  اکھڑ گئے۔جبکہ اس دوران ایک درخت فاروق احمد پرے کے رہائشی مکان پر گرآیا جس وجہ سے مکان کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ۔ ترال سے سید اعجاز کے مطابق ترال کے ،لرگام،گلشن پورہ،پانزو،پنیر جا گیر،کھاسی پورہ،نہر،کھرم سری گفوارہ اننت ناگ،ہاری پاری گام،دودھ کلن،شاہ پورہ چھانکتار،مونگہامہ،کار ملہ،ہندورہسیر جاگیر،دودھ مرگ،کہلیل،ماحچھامہ ،ناگہ بل،لرو جاگیرو غیرہ علاقوں میں پیر کی شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ ہی یہاں بڑے پیمانے پر بارشوں کے ساتھ ساتھ15منٹ تک شدید ژالہ باری ہوئی جس کی وجہ سے فصلوں ،میوہ جات کو شدید نقصان پہنچا ۔لوگوں نے بتایا ژالہ باری اس قدر شدید تھی کہ پتے زمین پر پڑے ملے ۔کسانوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں رواں ہفتے میں یہ دوسری مرتبہ کی شدید ژالہ باری ہے ۔

شمالی کشمیر

بانڈی پورہ سے عازم جان کے مطابق ضلع میں سہ پہر کے بعد تیز رفتار آندھی چلنے سے ، آلوسہ ، اونہ گام ، وٹہ پورہ ، قاضی پورہ ، کلوسہ ، نادی ہل ، کنن اور دیگر کئی جگہوں پر مکانوں اور دکانوں کی چھتیں اڑ گئیں، بجلی کے کھمبے اور درخت زمین پر گر گئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ بجلی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ۔ادھر پٹن کے سلطان پورہ ، ماگرے پورہ ، ٹینگ پورہ ، گوشہ بگ ، وسن ، شربگ ، اندر گام ، اندر ہامہ او رلولی پورہ کے ساتھ ساتھ گنڈ بل اور ہامرے میں طوفانی آندھی کے باعث کئی درختوں کی ٹہنیاں ٹوٹ گئیںجس کے نتیجے میں دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔ادھرغلام محمد کے مطابق سوپور کے کچھ حصوں میں پیر کی سہ پہر ہلکی بارش کے ساتھ تیز آندھی نے کئی رہائشی، تجارتی ڈھانچوں کی چھتیں اڑا دیں اور درخت اکھڑ گئے۔ سوپور، سنگرمہ، زینہ گیر، رفیع آباد کے کچھ حصوں سمیت شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے درجنوں رہائشی مکانات، بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچا ۔کئی علاقوں میں شدید ژالہ باری نے پھل دار باغات کے درختوں کو بھی تباہ کر دیا جبکہ تیز ہواؤں کے باعث کئی درخت زمین پر گرنے سے اندرونی سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت بھی معطل ہو گئی۔اس دوران ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث ٹرانسمیشن لائنوں کو نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے اکھڑ جانے سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 

 

مئی میں سخت گرمی بڑھے گی

پارہ 30ڈگری  تک جانیکا امکان

اشفاق سعید 

 

 سرینگر// جموں وکشمیر میں درجہ حرارت میں 3ڈگری کا اضافہ ہوا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں کے دوران اس میں اضافہ متوقع ہے ۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی میں آنے والے دنوں میں دن کے درجہ حرارت میں 30اور جموں میں 40ڈگری کا اضافی ہونے کا احتمال ہے۔ محکمہ کے مطابق اگلے 24گھنٹوں کے دوران وادی میں موسم خشک رہے گا اور اس بیچ کچھ ایک علاقوں میں بوندا باندی ہو سکتی ہے، تاہم اس سے درجہ حرارت میں کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ 13سے15مئی تک گرمی کی شدت بڑھ سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں اتوار اور سوموار کی درمیانی رات کو کم سے کم درجہ حرارت 13.7 ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔