عظمیٰ ویب ڈیسک
اننت ناگ/رُ کن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے منگل کو کہا کہ وہ نیشنل کانفرنس کے مجوزہ جنتر منتر احتجاج میں ضرور شرکت کریں گے، تاہم اُن کا بنیادی مطالبہ صرف ریاستی درجے کی بحالی نہیں بلکہ آرٹیکل 370 کی واپسی ہے۔پلوامہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نےکہا کہ وہ احتجاج میں ’’یقینی طور پر‘‘شامل ہوں گے، مگر اس جدوجہد کو صرف ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مسلسل اور منظم تحریک کی ضرورت ہے، اور مطالبہ صرف ریاستی درجے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ 2019 سے قبل حاصل آئینی تحفظات کی بحالی بھی اس میں شامل ہونی چاہیے۔آغا روح اللہ نے کہا کہ صرف ایک احتجاج کافی نہیں ہوگا، بلکہ ایک مستقل سیاسی مہم چلانے کی ضرورت ہے جو جموں و کشمیر کے عوام کے وسیع تر خدشات، حقوق اور تحفظات کی عکاسی کرے۔انہوں نے بعد از 2019 نوجوان نسل کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے انصاف ناگزیر ہے۔
زمین، ملازمتوں اور ریزرویشن پالیسی سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی لوگوں کو اُن کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پلوامہ سمیت دیہی علاقوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت اور روزگار کو متاثر کرنے والی پابندیاں ’’منظم ناانصافی‘‘کی نشاندہی کرتی ہیں۔آغا روح اللہ نے کہا کہ کئی اہم سیاسی اور انتظامی وعدے اب تک پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ اُن کے مطابق بہتر طرزِ حکمرانی سے وقتی طور پر حالات میں بہتری آ سکتی ہے، مگر بنیادی مسائل کے حل کے بغیر عوامی بے چینی برقرار رہے گی۔اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقل امن صرف انصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے، محض علامتی اقدامات سے نہیں۔
این سی کے جنتر منتر احتجاج میں شرکت کروں گا، مگر اصل مطالبہ آرٹیکل 370 کی بحالی ہے :آغا روح اللہ