این آئی اے کے 7مقامات پر چھاپے

سرینگر// وفاقی تفتیشی ایجنسی’این آئی اے‘نے مزاحمتی لیڈرشپ کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق، لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک اورتحریک حریت سربراہ محمد اشرف صحرائی سمیت قریب7جگہوں پر چھاپے مارے۔ مزاحمتی خیمے کے خلاف جامع کریک ڈائون کے دوران ہی این آئی اے نے منگل کو قریب10مزاحمتی لیڈروں کے گھروں پر چھاپے مار کر تلاشیاں لیں۔ مزاحمتی قیادت کے لیڈروں کے علاوہ شبیر احمد شاہ،محمد اشرف صحرائی، ظفر اکبر بٹ اور نسیم گیلانی کے گھروں پر این آئی کی ٹیموں نے مقامی پولیس اور فورسز اہلکاروں کے ہمراہ چھاپے مارے اور دن بھر تلاش کارروائی جار رکھیں۔منگل صبح قریب7بجکر30منٹ پر این آئی کی ٹیم فورسز اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مائسمہ پہنچی،اور نظر بند محمد یاسین ملک کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے تلاشیاں لیں۔ قریب4گھنٹوں تک یہ چھاپہ جاری رہا اور اس دوران گھر کی تلاشیاں لینے کے علاوہ وہاں پر موجودہ چیزوں کو بھی کھنگالا گیا۔یاسین ملک کو پولیس نے22 اور 23 فروری کی درمیانی رات گرفتار کیا تھا۔قریب11بجکر30منٹ پر این آئی کی تحقیقاتی ٹیم واپس نکلی،جس کے دوران وہاں ان پر خشت باری بھی ہوئی۔ادھر این آئی کی دوسری ٹیم نے میر واعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ واقع نگین میں دن کے10بجکر30منٹ پرچھاپہ ڈالا،جس کے دوران گھر کی تلاشی لی گئی۔ذرائع کا ماننا ہے کہ این آئی ٹیم طویل وقت تک میرواعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ کی تلاشی لیتی رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے این آئی اے ٹیموں نے تحریک حریت  چیئرمین محمد اشرف صحرائی کے علاوہ فریدم پارٹی کے نظر بند سربراہ شبیر احمد شاہ، سید علی گیلانی کے فرزند نسیم گیلانی اور سالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر بٹ کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے اور تلاشیاں لیں۔ فریڈم پارٹی سربراہ پہلے ہی تہاڑ جیل میں2017سے نظر بند ہیں۔

این آئی اے بیان

قومی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ26فروری کو سرینگر میں این آئی اے نے’’انتہاپسندی رقومات کے کیس‘‘ کی تحقیقات کیلئے7مقامات پرچھاپہ ماری کی،جن میں لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک،ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے صدر شبیر احمد شاہ،عوامی ایکشن کمیٹی چیئرمین میرواعظ عمر فاروق،تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف خان(صحرائی)،حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری مسرت عالم،سالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر اور سید علی گیلانی کے فرزند نسیم گیلانی کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ این آئی ٹیموں کے ہمراہ سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس کے اہلکار بھی تھے،جبکہ تلاشیوں کے دوران این آئی کی ٹیموں نے دستاویزات،بشمول جائیداد کے کاغذات،رقومات کی منتقلی کے رسید اور بنک کھاتوں کی تفصیلات شامل ہیں۔بیان کے مطابق الیکٹرانک مصنوعات بشمول،لیپ ٹاپ،موبائل فون،پین ڈرائیوز،مواصلاتی نظام اور ڈی وی آر کو تلاشی کے دوران ضبط کیا گیا۔قومی تفتیشی ایجنسی کے بیان کے مطابق مختلف جنگجو تنظیموں کے لیٹر ہیڈ کے علاوہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق سفری دستاویزات(ویزا) کی سفارشات سے متعلق دستاویزات بھی برآمد کی گئیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس دوران میر واعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ سے اعلیٰ فنی انٹرنیٹ مواصلاتی نظام بھی برآمد کیا گیا۔
 
 

کارروائیاں مذموم:بلال غنی لون۔NIA

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// پیپلز انڈیپنڈنٹ مومنٹ سربراہ بلال غنی لون نے قومی تحقیقات ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے حریت (ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی رہاش گاہ پر تازہ چھاپہ مار کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔ لون کا کہنا تھا این آئی اے نے بلاجواز طریقے پر چھاپہ مار کاروائیاں شروع کرتے ہوئے ریاست میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں لوگ انتہائی خوف زدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر واعظ عمر فاروق ایک سیاسی شخصیت ہے اور اُن کی تمام سرگرمیاں صاف وشفاف طریقے پر منعقد ہوتی ہے تاہم اس کے باجوود حریت (ع) سربراہ پر ذہنی دبائو ڈالنے کی خاطر ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا گیا۔