این آئی اے کی حراست میں سری نگر کے نوجوان کی رہائی کے لئے وزیر داخلہ کو خط لکھوں گی: محبوبہ مفتی

سری نگر//پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ وہ این آئی اے کے ہاتھوں گرفتار سری نگر کے ارسلان فیرز کی رہائی کے لئے مرکزی وزیر داخلہ کو ایک مکتوب روانہ کریں گی۔
 
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مکتوب میں لکھیں گے کہ ارسلان 23 سالہ میکانک نہیں بلکہ 19 سالہ طالب علم ہے۔
 
موصوفہ نے یہ باتیں پیر کے روز مذکورہ نوجوان کے والدین و دیگر اہلخانہ کے ساتھ یہاں اپنے دفتر پر ملاقات کرنے کے بعد میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
 
انہوں نے کہا: ’ارسلان فیروز کے والدین اور دیگر اہلخانہ میرے پاس آئے تھے جن کا کہنا تھا کہ ارسلان پہلے بھی چالیس دنوں تک بند رہا جس کے بعد اس کو رہا کیا گیا‘۔
 
ان کا کہنا تھا: ’اہلخانہ کے مطابق این آئی اے نے ارسلان کو تیس دسمبر کو گرفتار کیا اور اس کے بعد بتایا گیا کہ وہ ٹی آر ایف سے وابستہ ہے‘۔
 
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذکورہ نوجوان کے اہلخانہ بے حال ہیں اور اس کے والد کو حال ہی میں دل کا دورہ بھی پڑا ہے۔
 
انہوں نے کہا: ’ چونکہ این آئی اے کو براہ راست وزیر داخلہ دیکھتے ہیں لہذا ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ ہم وزیر داخلہ کو ہی ایک مکتوب روانہ کریں گے‘۔
 
ان کا کہنا تھا: ’مکتوب میں ہم ان کو بتائیں گے کہ یہ ایک 19 سالہ طالب علم ہے 23 سالہ میکانک نہیں ہے اور اگر اس کو چالیس دنوں تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا تو پھر دوبارہ اچانک گرفتار کیوں کیا گیا‘۔
 
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے لہذا اس کو رہا کیا جانا چاہئے۔
 
پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) کے حد بندی رپورٹ کے خلاف احتجاج کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ’یہ احتجاج صرف حد بندی کمیشن رپورٹ کے خلاف نہیں تھا بلکہ دفعہ370 کی تنسیخ اور دن بدن ہمیں بے اختیار کرنے کے لئے لائے جانے والے قوانین کے خلاف بھی تھا‘۔
 
بتادیں کہ این آئی اے نے سری نگر کے ذالڈگر سے تعلق رکھنے والے ارسلان فیروز کو 30 دسمبر کو گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ارسلان فیروز ٹی آر ایف کا ایک آپریٹیو ہے۔
 
مذکورہ نوجوان کے اہلخانہ نے دو روز قبل پریس کالونی میں احتجاج بھی درج کیا تھا۔