ایشیا کے سب سے بڑے باغ گل لالہ میں سیاحوں کی ریکارڈ ساز آمد ریکارڈ

یو این آئی
سری نگر//سری نگر میں شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع ایشیا کے سب سے بڑے باغ گل لالہ میں رواں سیزن کے دوران سیاحوں کی ریکارڈ ساز تعداد درج کی جا رہی ہے متعلقہ حکام کے مطابق امسال اب تک تین لاکھ تیس ہزار سیاح اس باغ کی رعنائی و دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوگئے ہیں جبکہ باغ سیاحوں کے لئے ابھی بھی کچھ دن کھلا رہے گا ان کا کہنا تھا کہ سال گذشتہ اس باغ کی سیر کرنے والے سیاحوں کی کل تعداد 2 لاکھ 26 ہزار ہی درج ہوئی تھی۔

 

بتادیں کہ باغ گل لالہ کو ماہ مارچ کی 23 تاریخ کو سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا تھا۔

 

سیاحوں کو محظوظ و متاثر کرنے کے لئے اس سال باغ کو 68 قسموں کے 15 لاکھ ٹیولپس سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے۔

 

باغ کے انچارج انعام الرحمان نے یو این آئی کو بتایا کہ امسال اب تک تین لاکھ تیس ہزار سیاحوں نے اس باغ کی سیر کی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ باغ ابھی بھی چار پانچ دن کھلا رہے گا تاہم اس کا انحصار موسمی صورتحال پر ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ان سیاحوں میں سے زائد از ایک لاکھ غیر مقامی سیاح شامل ہیں جبکہ لگ بھگ اسی غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

 

موصوف انچارج نے کہا کہ سال گذشتہ 2 لاکھ 26 ہزار سیاحوں نے اس باغ کی سیر کی تھی۔

 

محکمہ سیاحت کے ذرائع کے مطابق رواں سیزن کے دوران اب تک زائد از تین لاکھ سیاح وارد وادی ہو کر یہاں کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ماہ مارچ میں قریب ایک لاکھ اسی ہزار سیاح وادی کے حسین نظاروں سے محظوظ ہوئے ہیں جو گذشتہ ایک دہائی کے دوران ایک ریکارڈ ہے۔

 

وادی میں سیاحوں کی غیر معمولی آمد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک طرف سری نگر ہوائی اڈے پر روزانہ قریب 92 پروازیں آپریٹ کر رہی ہیں جن میں روز آٹھ سے نو ہزار سیاح وارد وادی ہوجاتے ہیں وہیں سری نگر اور دیگر سیاحتی مقامات کے ریستوران، ہوٹل وغیرہ بھی گنجائش کے مطابق بھرے ہوئے ہیں۔

 

دریں اثنا وادی میں سیاحوں کی ریکارڈ ساز آمد سے جہاں شعبہ سیاحت کی جان میں جان آگئی ہے وہیں اس شعبے سے وابستہ لوگوں کے چہروں پر بھی بہار کی فضا سایہ فگن ہے جو گذشتہ دو تین برسوں سے مرجھائے ہوئے تھے۔

 

شعبہ سیاحت کشمیر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے۔

 

اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس شعبے کا استحکام وادی میں بے روزگاری کے مسئلے کو کافی حد تک دور کرنے کی گنجائش ہے۔