ایس ایس اے اساتذہ کا راج بھون مارچ ناکام

سرینگر// پولیس نے اساتذہ کے راج بھون تک مارچ کو ناکام بناتے ہوئے ایجیک (ق) صدر عبدالقیوم وانی سمیت کئی ایس ایس اے اساتذہ کوحراست میں لے لیا۔ عبدالقیوم وانی نے30اگست سے غیر معینہ عرصے کیلئے بھوک ہڑتال پر جانے کا اعلان کرتے ہوئے7ویں تنخواہ کمیشن کیلئے سرکاری کمیٹی کے قیام کو مسترد کیا۔7وین تنخواہ کمیشن کا اطلاق کرنے کیلئے کلہم خواندگی مہم(ایس ایس ائے) اساتذہ جمعہ کی شام کو پرتاپ پارک میں جمع ہوئے اور موم بتیاں روشن کر کے احتجاج کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں موم بتیاں لیکر پیش قدمی کی اور راج بھون جانے کی کوشش کی تاہم کوٹھی باغ پولیس تھانے کے باہر پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے انکی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بیسوں مظاہرین کو حراست میں لیکر کوٹھی باغ تھانہ پہنچایا۔گرفتاری سے قبل عبدالقیوم وانی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اْس میں کوئی دورائے نہیں کہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر ،سیکریٹری ایجوکیشن ایس ایس اے اور رمسا کے ڈائریکٹر کے علاوہ گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاہم انہوں نے ریاستی گورنر این این ووہرا ، چیف سیکریٹری اور مشیر منصوبہ بندی اور خزانہ بی بی ویاس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایس ایس اے، رمسا اور ہیڈٹیچرس کے حق میں 7ویں پے کمیشن کو لاگو کریں۔انہوں نے کہاکہ اگر فوری طور پر ایس ایس ائے اساتذہ کو7ویںتنخواہ کے دائرے میں نہیں لایا گیا تو30 اگست سے اساتذہ غیر معینہ ہڑتال پر جائینگے۔عبدالقیوم وانی نے سرکار کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کو اسامیوں کی تخلیق اور تنخواہوں کو منسلک کرنے کے دائرے تک ہی محدود رکھنا چاہے جبکہ انہوں نے اس کمیٹی کی تشکیل کو7ویں تنخواہ کمیشن سے کوئی بھی سروو کار نہیں رکھنا چاہے،اور اگر انتظامیہ نے اس کو7ویں تنخواہ کمیشن کیلئے تشکیل دیا ہے تو اس کو مسترد کیا جاتا ہے۔ایجیک صدر نے مزید کہا کہ انہیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ گورنر انتظامیہ نے2ماہ کی تنخواہ کو  چھٹے تنخواہ کمیشن کے حساب سے واگزار کیا ہے،تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اساتذہ کو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔