اپوزیشن پارٹیوں کو وزیر اعظم کا پیغام شکست سے سبق سیکھیں، پالیمینٹ میںغصہ نہ نکالیں

 یواین آئی

نئی دہلی // وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ شکست کا غصہ نکالنے کیلئے پارلیمنٹ کو پلیٹ فارم نہ بنائیں اور منفیت و نفرت کو چھوڑ کر مثبت سوچ کے ساتھ آئیں اور ملک کو2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کیلئے عوام کی خواہش کو پوراکرنے میں تعاون کریں۔ سرمائی اجلاس کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بیان میں،مودی نے چار ریاستوں کے انتخابی نتائج کو منفیت کے خلاف مینڈیٹ قرار دیتے ہوئے کہا، ’’کل ہی چار ریاستوں کے انتخابی نتائج آئے ہیں، بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، یہ ان لوگوں کیلئے حوصلہ افزا ہیں جو عام آدمی کی فلاح و بہبود اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے وقف ہیں۔‘‘وزیر اعظم نے کہا، “تمام معاشروں اور تمام گروپوں کی خواتین، نوجوان، ہر برادری اور معاشرے کے کسان اور میرے ملک کے غریب۔ یہ چار اہم ذاتیں ہیں جن کی بااختیاریت، ان کے مستقبل کو یقینی بنانے کے ٹھوس منصوبے اور آخری فرد تک رسائی کے اصولوں پر جو چلتا ہے، انہیں بھرپورحمایت ملتی ہے۔

 

مودی نے کہا کہ ملک نے منفیت کو مسترد کر دیا ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اپوزیشن کے ساتھیوں کے ساتھ ہماراتبادلہ خیال ہوتا ہے، ہم ہمیشہ سب سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں، اس بار بھی یہ تمام عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ جب گڈ گورننس کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ’اینٹی انکمبنسی‘ کی اصطلاح غیر متعلقہ ہو جاتی ہے، اتنے شاندار مینڈیٹ کے بعد، آج ہم پارلیمنٹ کے اس نئے مندر میں مل رہے ہیں! جب اس نئے کیمپس کا افتتاح ہوا، تو ایک چھوٹا سا اجلاس منعقد ہوا اور ایک تاریخی فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس بار اس ایوان میں کام کرنے کا بہت اچھا اور وسیع موقع ملے گا۔انہوں نے کہا، ’’جمہوریت کا یہ مندر لوگوں کی امنگوں اور ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے ایک بہت اہم پلیٹ فارم ہے۔ میں تمام معزز ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہر ممکن حد تک تیار ہو کر آئیں اور ایوان میں جو بھی بل پیش کیے جائیں اس پر مکمل بحث کریں۔ مودی نے کہا، ‘اگر میں موجودہ انتخابی نتائج کی بنیاد پر کہوں، تو یہ حزب اختلاف میں بیٹھے میرے دوستوں کے لیے سنہری موقع ہے۔ اس سیشن میں شکست کا غصہ نکالنے کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے اگر ہم اس شکست سے سبق سیکھیں اور گزشتہ 9 سال کے منفی رجحان کو چھوڑ کر اس سیشن میں مثبت انداز میں آگے بڑھیں تو ملک ان کی طرف دیکھنے کا نظریہ بدلے گا۔