آصفہ آبروریزی و قتل کیس،کرائم برانچ کی تحقیقات مکمل

جموں//آصفہ اغواکاری ،آبرو ریزی اورقتل کیس کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے ریاستی کرائم برانچ نے ملزمان کیخلاف اگلیہفتے عدالت میں فردجرم عائدکرنے کافیصلہ لیاہے۔بتایاجاتاہے کہ 2ایس پی اوئوزاورسازش کے سرغنہ سنجی رام سمیت سبھی ملزمان کیخلاف آئندہ کچھ دنوں میں چارج شیٹ کورٹ میں پیش کیاجائیگا۔کرائم برانچ نے آصفہ کیس کی تحقیقات پوری کردی ہے اوراب چارج شیٹ کوحتمی شکل دی جارہی ہے تاکہ آٹھ سالہ آصفہ بانوکی اغواکاری ،آروریزی اورپھراس معصوم بچی کوموت کی نیندسلادینے میں ملوث ملزمان کیخلاف عدالت میں فردجر م عائدکیاجائے ۔خیال رہے 17جنوری2018کو8سالہ آصفہ کی نعش رسانہ ہیرانگرضلع کٹھوعہ کے ایک مضافاتی جنگل سے برآمدکیاگیاجبکہ یہ کمسن بچی10جنوری سے پُراسرارطورپرلاپتہ تھی ۔معصوم بچی کی اغواکاری اوراسکے سفاکانہ قتل کیخلاف کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن اورحکمران اتحادکے کچھ ممبران نے سخت احتجاج کرتے ہوئے یہ معاملہ کرائم برانچ کے سپردکرنے کامطالبہ کیا۔زبردست احتجاج کے بعد23جنوری کوریاستی سرکارنے آصفہ کیس کرائم برانچ کے سپردکردیا،اوراس معاملے کی تحقیقات کیلئے کرائم برانچ نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ۔کرائم برانچ کی ٹیم نے تحقیقات شروع کرنے کے بعدپہلے مرحلے میں 2ایس پی اوئوزسمیت3افرادکوگرفتارکیاجسکے بعدمزیدگرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں جن میں پولیس تھانہ ہیرانگرسے وابستہ ایک اے ایس آئی اورایک حوالداربھی شامل ہے جن کوآصفہ کی اغواکاری اوراسکے قتل سے جڑے کچھ اہم ثبوت وشواہدمٹانے کی پاداش میں معطل کرنے کے بعدحراست میں لیاگیا۔علاقہ ہیرانگرسے گوجروں اوربکروالوں کاانخلاء عمل میں لانے کی غرض سے انجام دی گئی اس سفاکانہ وارادت کے اصل سرغنہ محکمہ مال میں تعینات رہے ایک پٹواری سنجی رام کابھانڈاپھوٹ جانے کے بعدکرائم برانچ نے اس سازشی اورجرم میں شامل رہے اسکے بیٹے کی تلاش شروع کردی اورجب سرغنہ کے بیٹے کویوپی کے میرٹھ شہرسے گرفتارکیاگیاتوخطرناک سازش کے محرک سنجی رام نے 20مارچ کوکرائم برانچ کے سامنے سرنڈرکیا۔گزشتہ دنوں اس کیس کی تحقیقات میں تب ایک بڑی پیش رفت ہوئی جب کرائم برانچ کونئی دہلی میں قائم ایک فارنسک لیبارٹری سے مقتول ومظلوم بچی آصفہ کی اغواکاری ،آبروریزی اورقتل سے جڑے پوسٹ مارٹم اورفارنسک رپورٹ موصول ہوئے جن میں یہ انکشاف ہواکہ نہ صرف یہ کہ اس معصوم بچی کی زبان بندرکھنے کیلئے اسکونشہ آورادویات پلائی گئیں بلکہ اسی حالت میں آصفہ کواغواکاروں نے ہیرانگرمیں واقع اُس مندرمیں بندرکھاتھاجسکی نگرانی اصل سرغنہ سنجی رام کے ذمہ تھی ۔