اُمت ِ مسلمہ کی تقسیم اورواعظینِ ملّت کا رول

میر امتیاز آفریں
 عربی لفظ وعظ کا لغوی معنی ہے ‘کسی کو نصیحت کرنا ۔ مختلف ادوار میں وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کی ذمہ داری اصلاً پیغمبروں پر ڈالی گئی اور ان کی اتباع میں صالحین کی ایک بڑی جماعت نے بھی یہ فریضہ انجام دیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔قرآن مجید میں تفصیل سے مختلف پیغمبروں کے مواعظ کو نقل کیا گیا ہے اور ان کی قوموں کے نفسیاتی و عملی ردعمل کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے دربار میں سنجیدہ اور مشفقانہ انداز سے وعظ و نصیحت فرمانے کی تلقین کی گئی ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ کے دردمندانہ اور پر سوز وعظ کی جھلک آج بھی عہد نامہ جدید میں دیکھی جاسکتی ہے۔ حضرت لقمان جس شفقت سے اپنے بیٹے کو قرآن میں نصیحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ بھی دیکھنے کے لائق ہے۔پھر امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکمت و دانائی سے بھرے خطبات کا کیا کہنا، جن کے ایک ایک حرف میں جہاں معنی چھپا ہوا ہے اور جن کی تاثیر سے بڑے بڑے مشرکوں، کافروں اور جاہلوں کے دل موم ہوگئے۔آپؐ نے جو آخری خطبہ عرفات میں حجۃالوداع کے موقعے پر ارشاد فرمایا، وہ فصاحت و بلاغت اور جامعیت و اثراندازی میں تاریخ انسانی میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ علماء چونکہ انبیاء کے وارث ہوتے ہیں، اس ذمہ داری کو بعد میںانہوں نے ہی سنبھالا۔ مگر اس کام کے لیے وہی اسلوب اور علم و اخلاق ناگزیر ہیں جن کا اسوہ پیغمبرانِ عظام نے پیش کیا۔صدیوں سے واعظین نے امت مسلمہ کی رہنمائی کے کام کو احسن طریقے سے انجام دینے کی کاوشیں کیں اور تبلیغ دین کے معاملے میںقابل قدر خدمات انجام دیں۔وقت کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ ہر معاملہ میں رو بہ زوال ہوتا چلا گیا ،جس کے پیش نظر وعظ و تبلیغ کا شعبہ بھی نبوی منہج سے ہٹتا چلا گیا ۔ اگرچہ آج بھی بہت سے با صلاحیت اور با اخلاق واعظین اپنے فرض منصبی کو بخوبی انجام دے رہے ہیں مگر بیشتر کو اصلاح و تربیت کی ضرورت ہے ۔

ہر دور میں خلوص و للہیت کی دولت سے مالامال خطباء نے اُمت کی اصلاح کی کاوشیں کی ہیں اور صبر و استقامت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا کام سر انجام دیا ہے۔ائمہ و واعظین نے خود فقر و فاقہ کی زندگی بسر کی مگر منبر و محراب کو قال اللہ و قال رسول کی صداؤں سے معمور رکھا۔ ہمارا عوامی طبقہ آج بھی دینی رہنمائی کے لیے واعظین کی طرف رخ کرتا ہےجو عام لوگوں تک دین کی بنیادی تعلیمات کو پہنچاتے رہتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ دور میں ہماری اجتماعی زندگی کا تقریباً ہر شعبہ زوال و انحطاط کا شکار ہوگیا ہے، لہٰذا یہ عقابوں کا نشیمن بھی ذاغوں کے تصرف میں آگیا ہے۔ آج یہ منصب تنگ نظری، فرقہ وارانہ انتشار اور فکری انحراف پھیلانے کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ چونکہ آج عالمِ اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم فرقوں میں بٹ گئے ہیں، باہمی اتحاد کے بجائے ایک گروہ دوسرے گروہ کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہے، اُمتِ مسلمہ تقسیم در تقسیم کی شکار ہوکر کئی دھڑوں اور فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ ایک فرقہ دوسرے فرقے کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے درپے ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اس جلتی پر گھی کا کام کررہی ہے۔بلا شبہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک طرف تبلیغ دین کے نئے راستے کھل گئے ہیں مگر اس سےجُڑی آفات نے نئے فتنوں کا دروازے کھول دیئے ہیں۔ کل جب خطیب مسجد کے ممبر سے اُترتا تھا تو اس کی زہرآلود تقریر صرف اس محلے یا بستی کو زہر آلود کرتی تھی، اس کو ہم کنٹرول کرسکتے تھے، برداشت کرسکتے تھے، اسلئے کہ ہمارے درمیان اچھی تقریر کرنے والے بھی موجود  ہوتےتھے مگر آج یہ ہو رہا ہے کہ خطیب ِمسجد کا ممبر سے اُترنے سے پہلے اس کا ویڈیو یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام پر آجاتا ہے اور اس کو نہ صرف بے شمار لوگ لائیک کرتے ہیں بلکہ شئیر بھی کرتے ہیں۔کل تک جو متنازعہ اور ایک دوسرے کے خلاف لٹریچر اور مواد عوام کی دسترس سے باہر تھا ،آج وہ موبائل فون کے ذریعے ہر آدمی کے ہاتھوں میں آگیا ہے، جس سے عدم برداشت اور مذہبی انتشار ایک نئی خوفناک صورت پیدا ہوچکی ہے۔ کچھ گروہوں نے باہمی اختلافات کو ہوا دے کر تکفیری رویوں کو جنم دیا ہے او نوجوانوں کی ذہن سازی کرکے انہیں راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر معاندانہ اور متشددانہ لٹریچر کی بہتات نے نئی نسل کی ذہن سازی میں ایک خطرناک رول انجام دیا ہے اور اس کے اثرات ہم چاروں طرف محسوس کرتے ہیں۔ کچھ عقل سے کورے افراد دن رات سوشل میڈیا پر نام و نمود کےلئے لگے رہتے ہیں، کفر و ضلالت کے فتوے جھاڑتے رہتے ہیں، اپنے مخالفین کی تحقیر کرتے ہیں، ایک دوسرے کو مناظروں اور مجادلوں کا چیلنج دیتے ہیں، جس سے ایک طرف لوگوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوجاتی ہے تو دوسری طرف سماج کا سنجیدہ طبقہ تمام علماء کے بارے میں بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ کچھ افراد تو فیس بک اور واٹس اَپ پر خود اپنے پوسٹرز بناکے اپنے ناموں کے ساتھ بڑے القابات جوڑکر اپنی تشہیر کرتے پھرتے ہیں۔

آج کل چاروں طرف صرف شور سنائی دیتا ہے، مناظرے ہیں،کفروشرک کے فتوے ہیں، نعرے بازیاں ہیں،خطابت کی رنگینیاں ہیں،لب و لہجہ کی گرم جوشی ہے، لوگوں کو حیرت میں ڈالنے والے کرتب ہیں، ہم قافیہ الفاظ کی روانی اور جولانی ہے۔اگر کمی ہے تو حکمت و دانائی کی، متانت و سنجیدگی کی، علم و اخلاص کی۔

 دور ملوکیت سے ہی منبر ومحراب سے آخرت پسندی کے بجائے دنیا داری کی آوازیں بلند ہوئیں۔منبر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جیسے عام ہوگیا اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے واعظوں کی ایک فوج تیار ہوگئی ،جنہوںنے وحدت ِاُمت کو پارہ پارہ کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔علامہ ابن جوزی اپنی مشہور تصنیف ’’تلبیس ابلیس‘‘ میں واعظوں پر پڑنے والی تلبیسات کا خوب علمی و نفسیاتی جائزہ لیتے ہیں اور قصہ گوئی، دنیا پرستی، نفس پرستی، ریا کاری اور فتنہ پروری کیلئے انکی شدید مذمت کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ‘قدیم زمانے میں وعظ کہنے والے علماء و فقہاء ہوتے تھے۔پھر یہ پیشہ ایسا ذلیل ہوگیا کہ جاہلوں نے اختیار کرلیا،تو ایسے لوگوں نے علم کا شغل چھوڑ کر قصہ گوئی وغیرہ جن چیزوں کو عوام پسند کرتی ہے، سیکھنا شروع کیا اور اس پیشہ میں طرح طرح کی بدعتیں پھیل گئیں، کچھ لوگوں کو رغبت دلانے اور خوف و دہشت پھیلانے کی غرض سے حدیثیں گھڑتے ہیں۔ابلیس نے اُن پر یہ رچا دیا کہ تم تو حدیثیں اس لئے بناتے ہو کہ لوگوں کو نیکی کی طرف آمادہ کرو اور بدی سے روکو اور شیطان نے ان جاہلوں پر شبہ ڈالا کہ شریعت ناقص ہے، تمہاری اس جھوٹی کارستانی کی محتاج ہے۔پھر یہ بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔یہ لوگ اپنے سریلے کلام میں وہ چیزیں ملاتے ہیں جو نفس کا جوش اُبھاریں اور دِلوں میں سرور لائیں اور اپنی باتوں کو رنگین بناتے ہیں۔بعضے واعظوں کا حال یہ ہے کہ وہ بڑی آراستہ اورپُر تکلف عبارت بولتے ہیں،جو اکثر بے معنی ہوتی ہے۔اُس زمانے میں مواعظ کا بڑا حصہ، حضرت موسیٰ ؑ، کوہ طور، یوسف و زلیخا کے قصوں کے متعلق ہوتا ہے۔فرائض کا بہت کم تذکرہ کرتے ہیں، اس طرح گناہ سے بچنے کا بھی ذکر نہیں ہوتا۔بعض واعظ لوگوں کو عظمت شان ِالٰہی سے بہلا کر اُمید و طمع کے کلمات سے دلیر کرتے ہیں اور دنیا کی چیزیں، عمدہ پوشاک و سواری کی جانب واعظ کے میل کرنے سے اس کی تقویت ہوجاتی ہے۔بعض قرآن کو ایک نئی راگنی کے لہجے میں پڑھنے لگ جاتے ہیں، یہ راگنی انہوں نے آج کل گانے کے مشابہ نکالی ہے، تو یہ مکروہ ہی نہیں بلکہ صریح حرام کے زیادہ قریب ہے،تو یہ واعظ خود گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ واعظ سچا اور خیر خواہ ہوتا ہے لیکن جاہ طلبی اس کے اندر سرایت کر چکی ہوتی ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی عزت و تکریم کی جائے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر دوسرا واعظ اس کی قائم مقامی کرے یا اصلاح کے کام میں اس کی مدد کرنا چاہے تو اس کو ناگوار ہوتا ہے۔بعض نے وعظ گوئی کو اپنا معاش بنایا ہے اور امراء و ظالموں کے یہاں جا کر وعظ میں اُن کی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، چنگی وصول کرنے والوں سے نذرانہ وصول کرتے ہیں اور شہر شہر جا کر وعظ سے کمائی کرلاتے ہیں۔علامہ اقبال بھی واعظوں کی اس علمی و اخلاقی گراوٹ کا رونا اس طرح روتے ہیں:؎

واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

برق طبعی نہ رہی،شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

 علامہ اقبال واعظِ قوم سے امید رکھتے ہیں کہ وہ پختہ خیالی (intellectual maturity) کا مظاہرہ کرے،حالات حاضرہ، معاصر علوم و فنون سے پوری آگاہی حاصل کرے تاکہ ہر معاملہ میں وہ قوم کی صحیح رہنمائی کر سکے۔وہ دعوت و تبلیغ کو ایک رسمی کام سمجھ کر نہ کریں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی کوشش کریں۔اپنے اسلاف کی طرح علم و حکمت کو اپنا شعار بنائیں اور یوں انکے سچے جانشین بن کر دکھائیں۔