انکم ٹیکس ڈائریکٹوریٹ کے سرینگرمیں چھاپے

سرینگر//انکم ٹیکس محکمے نے جموں کشمیر میں چھاپوں کے دوران ضبط کی گئی دستاویزات کی جانچ شروع کرکے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس حکام نے 41کروڑ روپے کی بے نامی جائیداد کی کھوج لگانے کے علاوہ1.44کروڑروپے نقدی ضبط کی ہے ۔ایک سینئرافسر نے بتایا کہ ٹیکس چھپانے والے افراد کے بینک لاکروں کی بھی جانچ کی جارہی ہے تاکہ بے نامی جائیدادوں کا پتہ لگایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آئی ٹی ماہرین کام پر لگے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قانونی لوازمات کے پورا کئے جانے کے بعد عادی ٹیکس چوروں  کیخلاف انکم ٹیکس قوانین کے تحت کارروائی شروع کی جائے گی۔سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز کے بیان کے مطابق چھاپوں کے دوران 2.48 کروڑ روپے مالیت کے جیولری ضبط کی گئی اور چھپائے گئے17کروڑ روپے کے مالی لین دین کی دستاویزات کاکھوج لگایا گیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی ہارڈ ڈسکوں کو بھی ضبط کیاگیا ہے اور ان کا جائزہ ممکنہ طور تیسرے فریق کا پتہ دے گا جو ٹیکس حکام سے چھپائے گئے جائیداد اور مالی دین میں ملوث ہیں۔بیان میں کہاگیا ہے کہ حد متارکہ کے آرپار تجارت سے متعلق دستاویزات میں فرضی نام پائے گئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پوچھ تاچھ جاری ہے تاکہ ٹیکس چوری کرنے والوں کی طرف سے خفیہ آر پار تجارت کاتعین کیاجائے۔ ایک اور کارروائی کے دوران سرینگر میں اراضی اورجائیداد کے ایک دلال نے مبینہ طور 4.21کروڑ روپے مالیت کا لین دین ٹیکس اور دیگر حکام سے چھپایا تھا۔قابل ذکر ہے کہ ٹیکس چور نے کبھی آمدنی ٹیکس کاریٹرن فائیل نہیں کیا تھا۔محکمے نے ایک ہوٹل مالک اور شراب کے ریٹیلر کی بھی تلاشی لی جنہوں نے مبینہ طور شراب اور ہوٹل سے کافی منافع کمایا اور حساب کتاب میں نقدی کی رسیدیں نہیں درج کی تھیں ۔ ہارڈ ڈسک جن میں ڈجٹل ثبوت موجود ہیں ،کو ضبط کیا گیا ہے ۔ جموں اور کٹرہ میں بھی ایک فیملی گروپ کی جانچ کی جارہی ہے ۔