اننت ناگ راجوری پارلیمانی حلقہ میں سیاسی پارہ عروج پر | خطہ پیر پنچال میں دنگل شباب پر تمام سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے میں سرگرم عمل

عشرت حسین بٹ
پونچھ // اننت ناگ راجوری پونچھ پارلیمانی حلقہ انتخابات پر 25مئی کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔اس دوران گزشتہ چار روز سے متعدد سیاسی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت خطہ پیر پنچال کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں خیمہ زن ہے جہاں سے وہ ان دونوں اضلاع میں عوام سے اجلاس ،روڈ شوز کے ذریعے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ بتا دیں کہ اننت ناگ راجوری پونچھ حلقہ انتخاب پر نیشنل کانفرنس امیدوار میاں الطاف، پی ڈی پی پارٹی سے محبوبہ مفتی اور اپنی پارٹی سے ظفر اقبال منہاس کے علاوہ دوسری پارٹیوں کے امیدواراور کچھ آزاد امیدوار بھی اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس خطے میں گزشتہ روز سے چار سیاسی پارٹیوں کا چنائو پرچار زوروں پر ہے۔دو روز قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر لیڈر شپ ،جس میںپارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری اور جموںوکشمیر انچارج ترون چگ اور پارٹی کے جموں وکشمیر یوٹی صدر رویندر رینہ سمیت بی جے پی کی لوکل لیڈر شپ پونچھ، منڈی ،سرنکوٹ اورمینڈھر کے مختلف علاقوں میں جاکر اس انتخابی حلقے سے اپنی پارٹی امید وار ظفر اقبال منہاس کے حق میں لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں وہیںدوسری جانب پی ڈی پی کے لیے محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے بھی گزشتہ تین دن اپنی والدہ محبوبہ مفتی کے حق میں مینڈھر، منڈی اور پونچھ میں روڈ شوز کے دوران انتخابی مہم چلائی۔ادھر نیشنل کانفرنس کی جانب سے انڈیا الائنس امید وار اور نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر میاں الطاف گزشتہ کچھ روز سے ضلع راجوری کے مختلف علاقوں میں اپنے لیے ووٹ مانگ رہے تھے جبکہ میاں الطاف کی ہی چنائو مہم کے لئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فارق عبداللہ نے بھی سنیچر کو سرنکوٹ اور پونچھ قصبہ میں بڑے اجتماعات سے خطاب کر کے میاں الطاف کے حق میں عوام سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔اس دوران ذرائع کے مطابق یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری اور پی ڈی پی صدر اور پارلیمانی حلقہ انتخاب اننت ناگ راجوری پونچھ سے پارٹی امید وار محبوبہ مفتی بھی آنے والے دو تین دنوں میں راجوری پونچھ کا دورہ کر کے اپنی اپنی پارٹیوں کے لیے عوام سے ووٹ مانگنے کے لیے بڑے بڑے اجلاس منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ پچیس مئی کو اس حلقہ انتخاب سے انتخابات لڑنے والے لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ عوام ووٹنگ مشینو ں میں قید کرے گی اور پھرآونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،اُس کا پتہ4جون کو ہی چلے گا۔

مقابلہ سخت ہے، دشمن کو کبھی کمزور سمجھنے کی غلطی مت کریں
ڈاکٹر فاروق کا پونچھ او رسرنکوٹ میں چنائوی اجتماعات سے خطاب

عظمیٰ نیوزسروس

پونچھ//بھاجپا نے جموں و کشمیر کی تاریخی ریاست کے دو ٹکڑے اس لئے کئے کیونکہ ہماری ریاست ترقی کی طرف گامزن تھی، 5اگست2019کے روز جموں وکشمیر ماڈل ریاست گجرات سے بیشتر شعبوں میں آگے تھی اور ہمارے دشمنوں کو یہی راس نہیں آیا اور یہاں کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا غیر جمہوری اور غیر آئینی کام کیا گیا۔ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی اُمیدوار برائے اننت ناگ راجوری نشست میاں الطاف احمد کے حق میں خطہ پیرپنچال میں سرنکورٹ، پونچھ میں چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی صد رجموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، پارٹی سینئر لیڈران جاوید رانا، خالد نجیب سہروردی، اعجاز جان، ڈاکٹر ممتاز بخاری، مظفر خان، چودھری محمد اکرم اور دیگر لیڈران بھی موجو دتھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہاں دفعہ370کی بدولت بہت سارے حقوق حاصل تھے، ہمارے بچوں کو یونیورسٹی تک مفت تعلیم ملتی تھی لیکن اب ایسا نہیں، ہمارے تعلیمی اداروں میں مقامی بچے ہی داخلہ پاسکتے تھے، ہمارے بچوں کو اس سے بھی محروم کیا گیا۔ جموں میں جو آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم بنایا گیا، اُن میں دیکھئے کتنے بچے یہاں کے زیر تعلیم ہیں اورکتنے باہر کے ہیں اور یہ بھی دیکھئے کہ پڑھانے والے کہاں کے ہیں۔ کیا ہمارے بچوں نے تعلیم مکمل کردی تھی کہ یہاں اب باہر کے بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے، کیا یہاں کوئی قابل نہیں تھا جو ان تعلیمی اداروں میں استاد کے فرائض انجام دے سکتا تھا، یہاں تو اب مزدور بھی باہر سے لائے جاتے ہیں، ٹھیکے بھی باہر والوں کو دیئے جاتے ہیں، دریائوں سے ریت بھی اب باہر کے لوگ نکالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں اُن کو بتائے جو یہاں بھاجپا کے ساتھ چلتے ہیں اور اُن کا پرچار کرتے ہیں،ا ُن سے کہئے کہ آج بھاجپا والے ہمیں چھری مار رہے ہیں، کل آپ پر بھی ماریںگے اُس کیلئے تیار رہئے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہ پہلا امتحان ہے اور امرناتھ یاترا ختم ہونے کے بعد دوسرا امتحان اسمبلی انتخابات کی صورت میں ہے، اُس وقت بھی ہمیں اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے، یہی اُن لوگوں کو ہمارا جواب ہوگا تو ہمیں مذہب، زبان اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں نفرتوں کو ختم کرنا ہے، اور محبتیں قائم کرنی ہیں، مقابلہ سخت ہے، دشمن کو کبھی کمزور سمجھنے کی غلطی مت کیجئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ اگلے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو پہلی چیز جو ہم کریں گے وہ اُن بچوں کی رہائی کا کام ہوگا جو ہزاروں بچے جیلوں میں مقید ہے، اور اس کیلئے ریاستی درجے کی واپسی کیلئے بھی جدوجہد کی جائے گی۔ ہماری ریاست بنا کوئی دیر کئے بحال ہونی چاہئے۔راجوری پونچھ کیلئے علیحدہ پارلیمانی نشست کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2026میں نئی حدبندی طے ہے اور مجھے اُمید ہے کہ راجوری پونچھ کیلئے الگ سے نشست بنائی جائے گی اور پیرپنچال کو جنوبی کشمیر کیساتھ جوڑنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ پھر سے نہیں لیا جائے گا۔

امت شاہ ووٹ تقسیم کرنے کیلئے کشمیر آئے تھے:ڈاکٹر فاروق

عظمیٰ نیوزسروس

پونچھ//نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ امت شاہ ووٹ تقسیم کرنے کے لیے کشمیر کے دورے پر آئے تھے جہاں ان سے کچھ لوگ ترُے باندھ کر ملنے بھی گئے تھے ۔ان خیالات کا اظہار موصوف نے پونچھ میں پارٹی کی جانب سے منعقد کردہ ایک انتخابی ریلی کے حاشیے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نےامت شاہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ’’وہ کشمیر آئے تھے جہاں وہ ترےُ باندھے ہوئے کچھ لوگوں سے ملے اور وہ ان لوگوں کو نیشنل کانفرنس کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا‘‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا’’مگر جن کو اللہ رکھے ،وہ طلاطم خیز موجوں سے گھبرایا نہیں کرتے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کشمیر میں ووٹ کو بانٹنے کا کام کر رہے ہیں لیکن کشمیر کی عوام سنجیدہ ہے ،وہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’’مجھے تو پہلے بھی پاکستانی کہا جاتا تھا آج کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن فاروق عبداللہ آج بھی ہندوستان میں ہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کے پیسے یہاں بانٹے وہ لوگ آج بھی انہی لوگوں کی گود میں پل رہے ہیں ۔

مینڈھر میں نیشنل کانفرنس کا روڈ شو
پی ڈی پی ،بھاجپا کاکوئی وجود نہیں،این سی کی جیت طے:ذیشان رانا
جاوید اقبال
مینڈھر//نیشنل کانفرنس کی اتوار کو ریلی سے قبل مینڈھر میں نیشنل کانفرنس کارکنان نے ذیشان رانا کی قیادت میں ایک روڈ شو کا اہتمام کیا گیاجو قصبہ مینڈھر سے ہوتا ہوا واپس پارٹی دفتر میں ختم ہوا جس میں پارٹی امیدوار میاں الطاف اُور نیشنل کانفرنس کے حق میں جم کر نعرے بازی کی گئی۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے یوتھ لیڈر ذیشان رانا نے کہاکہ یہاں کیا بلکہ جموں وکشمیر کے اندر پی ڈی پی اُور بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے کیونکہ لوگ ان پارٹیوں سے تنگ آ چکے ہیں ۔اُنکا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس اننت ناگ راجوری پارلیمانی حلقہ سے بھاری مارجن سے جیت حاصل کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی تینوں سیٹوں پر نیشنل کانفرنس بھاری مارجن سے جیت حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں لوگ نیشنل کانفرنس کی حمایت کر رہے ہیں اور انتخابی نتائج پارٹی کو واضح برتری دیں گے۔اس موقعہ پر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ایڈوکیٹ نظیر چودھری اور میاں شہراز ازری نے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی اور بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی کیونکہ یہ پارٹیاں آخری سانس لے رہی ہیں اور انکا اب وجود ختم ہے ۔

خاندانی سیاسی جماعتیں گن کلچراور علیحدگی پسندی کیلئے ذمہ دار
بھاجپا کارکن راجوری پونچھ میں این سی، پی ڈی پی کے خلاف مہم تیز کریں:وبود
عظمیٰ نیوزسروس
راجوری//”بی جے پی کیڈر ان لوگوں کو ووٹ دے گا جو قوم پرست ہیں اور جموں اور کشمیر میں امن اور خوشحالی کو مضبوط بنانے میں یقین رکھتے ہیں، جبکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی خاندانی سیاسی جماعتوں کو مسترد کرتے ہیں، جنہوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بندوق کلچر اور علیحدگی پسندی کو فروغ دیا”۔ان باتوں کا اظہاربی جے پی جموں و کشمیر کے جنرل سکریٹری اور راجوری-اننت ناگ پارلیمانی سیٹ کے انچارج وبود گپتانے ہفتہ کو ایس سی مورچہ، راجوری کی ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اننت ناگ راجوری پارلیمانی سیٹ پر این سی اور پی ڈی پی کے خلاف مہم کو تیز کریں۔انکاکہناتھا’’راجوری، پونچھ اور اننت ناگ کے لوگ سرشار لیڈروں کے مستحق ہیں جو نہ صرف انتخابی ادوار میں بلکہ ہر روز اپنی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اکٹھے ہوں اور ان لوگوں کی مخالفت کریں جنہوں نے سیاسی فائدے کے لیے ہمارے اعتماد اور جذبات سے کھلواڑ کیا ہے۔ آئیے غلط معلومات اور تقسیم کے خلاف کھڑے ہوں، این سی اور پی ڈی پی جیسی پارٹیوں کو مسترد کرتے ہوئے جو یونین ٹیریٹری کے نوجوانوں میں اختلاف کے بیج بوتے ہیں‘‘۔وبود نے زور دے کر کہا کہ یہ جماعتیں جموں و کشمیر کے تمام ہنگاموں کے لیے ذمہ دار ہیں، جو 1990کی دہائی سے شروع ہوئی جب دہشت گردی پھوٹ پڑی، جس کے نتیجے میں خون کی ہولی اور عدم استحکام کا ایک طویل عرصہ شروع ہوا۔ انہوں نے کہاکہ رائے دہندگان راجوری پونچھ اننت ناگ پارلیمانی سیٹ پر این سی اور پی ڈی پی کو مسترد کر دیں گے، جس سے ان سیاسی جماعتوں کی بنیادیں اکھڑ جائیں گی۔

پسماندگی کیلئے این سی اور پی ڈی پی کیخلاف لوگوں میں غصہ
اپنی پارٹی کو پونچھ میں حوصلہ افزا ردعمل ملا،درجنوں خواتین شامل:پونیت کور
عظمیٰ نیوزسروس
پونچھ//اپنی پارٹی خواتین ونگ جموں کی صوبائی صدر پونیت کور نے پارٹی کے ترقیاتی ایجنڈے کے تئیں اپنے جوش و جذبے کا اظہار کرنے پر خواتین کا شکریہ ادا کیا ہے۔پونچھ میں پونیت کور کی صدارت میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ میٹنگ کم جوائننگ پروگرام پونچھ کے وارڈ نمبر 9 میں ضلع سکریٹری سرجن سنگھ اور مکیش شرما نے منعقد کیا تھا۔ملاقات کے دوران شرکاء نے نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی نااہلی کی وجہ سے خطے میں ترقی اور پسماندگی کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔کور نے کہا”یہ جماعتیں تقسیم کے ایجنڈے میں شامل تھیں اور اس لیے انہوں نے مقامی آبادی کے ترقیاتی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو گمراہ کیا۔ تاہم، راجوری پونچھ کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا گیا‘‘۔انہوں نے این سی اور پی ڈی پی پر خطے میں پسماندگی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے امیدوار ظفر اقبال منہاس صاحب کو لوک سبھا کے لیے ووٹ دیا جاتا ہے تو پارٹی علاقے کی مجموعی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری اور سیاحتی مقامات کی تلاش کے لیے کام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ “ہم سمجھتے ہیں کہ سیاحت کو فروغ دینا اور ثقافتی ورثے کا تحفظ ضروری ہے کیونکہ یہ خطے اور اس کی بھرپور اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔”انہوں نے کہا کہ پارٹی مساوی ترقی کے ساتھ خطے میں خوشحالی لانے اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔قبل ازیں، انہوں نے پونچھ ضلع کے وارڈ نمبر 9 کی رہائشی منمیت کور کی قیادت میں ایک درجن سے زائد خواتین کا پارٹی میں خیرمقدم کیا۔پارٹی میں ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے، پونیت کور نے امید ظاہر کی کہ ان کی شمولیت سے پارٹی کو نچلی سطح پر تقویت ملے گی اور خواتین کو اپنی نمائندگی کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا موقع ملے گا۔

اننت ناگ۔ راجوری میںپوشیدہ ایجنڈا ظاہر کریں
کانگریس کا بی جے پی سے نوشہرہ میں مطالبہ
عظمیٰ نیوزسروس
نوشہرہ //کانگریس نے اننت ناگ راجوری لوک سبھا سیٹ پر انتخابات کے لیے خفیہ ایجنڈا رکھنے کے لیے بی جے پی پر تنقید کی ہے اور پارٹی سے کہا ہے کہ وہ اپنے چھپے ہوئے اتحاد کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرے۔ نوشہرہ میں پارٹی کے سرکردہ عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایل سی سی کوارڈی نیٹر اور سابق وزیر جموں و کشمیر یوگیش ساہنی نے بی جے پی سے کہا کہ وہ اس حلقے میں اپنے چھپے ہوئے ایجنڈے کو ظاہر کرے کیونکہ اس نے تین حلقوں میں امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، نہ تو کوئی کھلا اتحاد کیا ہے اور نہ ہی کسی کھلی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے کارکنان اور رائے دہندگان بہت الجھن میں ہیں کیونکہ اس کے لیڈران اپنے چھپے ہوئے اتحادیوں اور دوستوں کو ظاہر کیے بغیر کانگریس۔این سی کے خلاف سرگرمی سے مہم چلا رہے ہیں۔ حلقہ انتخاب میں اتحادی امیدوار میاں الطاف احمد کے حق میں بھرپور مہم چلانے پر کانگریس کے کارکنوں کی ستائش کرتے ہوئے ساہنی نے پولنگ میں بوتھ پر مکمل تال میل پر زوردیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی سی سی کے سینئر نائب صدر اور ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے ووٹروں کے ساتھ چھپ چھپانے کی پالیسی پر بی جے پی پر تنقید کی اور “بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” کا حوالہ دیتے ہوئے دوسروں کی شادی میں رقص کرنے کو اس کے لیڈروں کی پوزیشن قرار دیا۔ یہاں کے لوگوں اور میڈیا والوں کے پوچھنے پر بی جے پی کے سٹار کمپینرز اپنے امیدوار کی حمایت کا اعلان کرنے سے قاصر ہیں، جس سے لوگوں کو دھوکہ دینے کے ان کے پوشیدہ ایجنڈے کا پتہ چلتا ہے۔سینئر کانگریس لیڈر راجندر پرشاد نے کہا کہ کانگریس کیڈر مکمل طور پر اتحادی امیدوار کے پیچھے ہیں اور دل سے میاں الطاف کی حمایت کریں گے۔

پونچھ میںدرجنوں لوگوں نے پی ڈی پی کا دامن تھاما
عظمیٰ نیوز سروس
منڈی// ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں سے درجنوں لوگوں نے پارٹی ضلع صدر شمیم احمد گنا ئی کی قیادت میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی ۔اس موقع پر پارٹی میں شامل ہونے والے لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی کے حالیہ پونچھ دورے کے دوران ان کا اور ان کی پارٹی کا منشور سن کر بہت اچھا لگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی جماعت اور اس کے لیڈران جموں و کشمیر کے لوگوںکے حق میں بہتر اور پائیدار بات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ التجا مفتی بھی اس عمر میں لوگوں کی بہتر ترجمانی کر سکتی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے باقی سیاسی پارٹیوں کو خیرباد کہہ کے پی ڈی پی کا دامن تھاما۔ اس موقع پر لورن پلیرہ چکھڑی کے درجنوں لوگوں نے انتخابات میں پی ڈی پی صدر اور اننت ناگ راجوری حلقہ انتخاب سے محبوبہ مفتی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کا بھی عہد کیا۔