انسانیت اورکشمیریت : درماندہ سیاحوں کیلئے ہوٹلوں میں مفت قیام وطعام کی پیش کش

سرینگر //ماضی کی طرح کشمیریوں نے کشمیریت کو زندہ رکھتے ہوئے موجودہ پرتنائو حالات کے دوران سرینگر میں درماندہ سیاحوں کیلئے مفت رہائش اور کھانے پیسے کی پیشکش کی ہے۔سرینگر ہوائی اڈہ پر ہندوپاک کشیدگی کے باعث پروزیں منسوخ ہونے پرچایا گروپ آف ہوٹلس نے کشمیر میں بھارت اور بیرون ممالکوں کے سیاحوں کیلئے مفت قیام وطعام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ریاست کا وادی میں درماندہ سیاح حالات میں بہتری آنے تک کسی بھی ہوٹل میں مفت رہائش اختیار کر سکتا ہے۔کشمیر کے معروف ہوٹلر مشتاق چایا جو جموں وکشمیر ہوٹلرس کلب کے چیئرمین بھی ہیں، نے بتایا کہ وہ اس مشکل وقت میں سرینگر میں درماندہ ہوئے بیرون ریاست وبیرون ممالک کے رہنے والے سیاحوں کو ہوٹلوں میںمفت رہائش اور کھانا فراہم ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاح ہمارے مہمان ہیں اوریہ فیصلہ اس لئے لیا گیا تاکہ انہیں کشمیر وادی میں کس بھی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ آئے ۔انہوں نے کہا کہ پتہ چلا ہے کہ موجودہ حالات میں کچھ سیاحوں کے پاس پیسے نہیں ہیں اور ایسے سیاحوں کیلئے ہم نے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں ۔مشتاق چایا نے کہا کہ کوئی بھی سیاح جو پیلس ریڈسن بلو میں رہنا چاہتا ہے اس کو کس بھی قسم کا کوئی پیسہ نہیں لیا جائے گا ۔ مشتاق چایا نے اس دوران ہوٹلز کلب کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ بھی مشکل وقت میں سیاحوں کی مدد کریں ۔اسی طرح شہر کے جواہر نگر میں قائم ہوٹل قیصر نے بھی موجودہ حالات کی وجہ سے وادی میں درماندہ ہوئے بھارت اور بیرون ممالک کے سیاحوں کو مفت رہائش اور کھانا فراہم کرنے کا علان کیاہے ۔ہوٹل کے مالک شیخ قیصر نے کہا کہ درماندہ سیاح اُن کے پاس حالات بہتر ہونے تک آکر مفت میں رہ سکتے ہیں ۔اس طرح کے اعلانات سامنے آنے کے بعد شہر میں قایم کئی ہوٹل مالکان نے سیاحوں کیلئے مفت قیام و طعام کا اعلان کیا ۔ہوٹل مالکان نے سماجی رابطہ سائٹوں پر پوسٹ کرکے سیاحوں کیلئے مفت قیام و طعام کا اعلان کیا ۔اس طرح کی پیش کش آنے کے ساتھ ہی سینکڑوں افراد نے فیس بک اور ٹیوٹر پر پوسٹ کرکے سیاحوں کیلئے مفت قیام و طعام کا اعلان کیا ۔فیس بک پر لوگوں نے لکھا’’اگر کوئی سیاح ہمارے گھر میں رہنا چاہتا ہے۔تو اس کیلئے ہمارے گھروں کے دروانے کھلے ہیں ‘‘۔