’انتخابی سیاست کیلئے ریاست کو میدان جنگ نہ بنایا جائے‘

سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے تنظیم کے خلاف حالیہ کریک ڈائو ن پر لب کشائی کرتے ہوئے کہاہے کہ  موجودہ ریاستی حکومت نے 22فروری کی شام سے وادی کشمیر کے چپے چپے سے جماعت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کا سلسلہ شروع کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امیر جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت مرکزی و ضلعی قیادت اور دیگر کارکنان کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے تحت مختلف تھانوں میں پابند سلاسل کیا گیا۔جماعت اسلامی کے پریس بیورو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوابلکہ اس سے قبل بھی ریاست کی متواتر حکومتوں نے جماعت اسلامی کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے سیاسی اغراض اور مفادات کو حاصل کرنے کی خاطر جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف ظلم و جبر کی داستانیں رقم کیں۔بیان میں 1953 سے1990کی دہائی تک کے واقعات اور جماعت اسلامی پر سرکاری عتاب کی داستان کا احاطہ کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ جب جماعت نے دستوری طورپر جماعت اسلامی ہند سے علیحدگی اختیار کی تو ریاست کے سنگھاسن اقتدار پر براجمان اُس وقت کی حکومت نے جماعت کو عتاب کا شکار بنایا۔اُس وقت کی ریاستی حکومت نے جماعت کے بانی امیر مولانا سعد الدین تارہ بلی ؒ کو سرکاری نوکری سے برطرف کردیااور مابعد سال ۱۹۶۴ء موئے مقدس ؐ تحریک اور ہندوپاک جنگ کے ساتھ ہی حکومت نے جماعت کی قیادت اور کارکنان کی گرفتاریوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔
اسی طرح مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے جب جے پی نارائن کی سرپرستی میںپیپلز کنونشن کا انعقاد عمل میں لایا تب بھی جماعت اور اس سے وابستہ لیڈران و کارکنان کے خلاف گرفتاریوں کا سلسلہ تیز تر کیا گیا۔ ۱۹۷۵ء میں اندرا عبداللہ ایکارڈ کی مخالفت کرنے کی پاداش میں بھی جماعت کو تختہ مشق بنایا گیا اورایمرجنسی کے موقعے پرجماعت کی جملہ سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی۔جماعت کے خلاف بغض و عناد کے سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے حکومت نے ۱۹۹۰ء میں ایک مرتبہ پھر اس پر پابندی عائد کی جس کے بعدسینکڑوں کی تعداد میں ارکان جماعت کو ایجنسیوں اور زر خرید ایجنٹوں کے ذریعے جان بحق کرنے کے علاوہ ہزاروں وابستگان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔جماعت حکومتی عتاب کا نشانہ بننے کے باوجود انہی فلاحی اُمور کو انجام دینے کے نتیجے میں ریاست جموں وکشمیر کی ایک منفرد اور منظم مذہبی تحریک بن گئی۔ریاست کی موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرکاری انتظامیہ نے آج ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو نشانہ بنانے کی غرض سے اس کے خلاف بڑے پیمانے پرکریک ڈائون شروع کیاہے۔ اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ نئی دہلی میں براجمان حکومتی طبقہ جمہوری طریق کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے رائے دہندگان کی خوشنودی حاصل کرناچاہتے ہیں اور آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو نشانہ بنانے پر پھر ایک بار تلی ہوئی ہے۔موجودہ صورتحال جس میں چہار سو گرفتاریوں کے لامتناعی سلسلہ کو دراز کیا گیا ہے ، سے متعلق ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں آنے والے انتخابات کو پرامن ماحول میں منعقد کرانے کے لیے اُٹھایا گیا قدم ہے تاہم جماعت اسلامی یہاں یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتی ہے کہ جماعت اسلامی کے سامنے ریاست میں ہورہے انتخابات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس سلسلے میںجماعت اسلامی جموں وکشمیرنے۱۹۸۹ء سے ہی انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے۔اس موقعے پر جماعت اسلامی اس بات کا اعادہ کرنا چاہتی ہے کہ ریاست کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 35Aکے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ ریاستی عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔جماعت بھارت کی سیول سوسائٹی اور میڈیا میں کام کررہے انسان دوست شخصیات پر زور دیتی ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں جاری غیر یقینی صورتحال کو ختم کرانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں تاکہ انتخابی سیاست میں مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر ریاست کو میدان جنگ میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے