امرناتھ یاترا 2024 یاترا کا راستہ چوڑا کرنیکا کام مکمل

 سڑک کے کنارے ریلنگ اور سائیڈ وال بھی تعمیر:بی آر او

راجوری+ جموں// بارڈر رو ڈز آرگنائزیشن (بی آر او)کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل راگھو سری نواسن نے منگل کو کہا کہ امرناتھ گھپا کی کی یاترا کاارادہ رکھنے والے یاتری اس سال “بہترسفر” کا تجربہ کریں گے۔جنوبی کشمیر میں 3,880 میٹر اونچے گھپا کی 52 روزہ یاترا جون کو جڑواں پٹریوں سے شروع ہوگی ۔ضلع اننت ناگ میں روایتی 48 کلومیٹر ننون-پہلگام راستہ اور گاندربل ضلع میں 14 کلومیٹر کھڑی بالتل روٹ۔ 29 جون کو شروع ہورہی ہے۔ڈی جی بی آر او نے سرنگ بریک تھرو فنکشن کے موقع پر صحافیوں کو بتایا”میں بالتل(بیس کیمپ)سے واپس آیا ہوں، پچھلے سال ہمیں ٹریک کو چوڑا کرنے کا کام سونپا گیا تھا جو یاتریوں کی حفاظت کے لیے اہم تھا، ہم نے چوڑا کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے اور سطح کو بلاکس سے بھی ڈھانپ لیا ہے اور منحنی خطوط اور ڈھلوانوں کو مضبوط کیا ہے‘‘۔

 

انہوں نے کہا کہ بی آر او نے غیر محفوظ مقامات پر سڑک کے کنارے ریلنگ اور سائیڈ وال بچھانے کا سب سے اہم کام بھی مکمل کر لیا ہے خاص طور پر ان علاقوں میں، جہاں پہاڑیوں سے پتھرگرتے ہیں تاکہ زائرین کو محفوظ رکھا جا سکے۔لیفٹیننٹ جنرل سری نواسن نے کہا کہ بارش کے پانی کے بہتر اخراج کے لیے پٹریوں پر نکاسی کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ڈی جی نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ بی آر او انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے ‘پسند کی ایجنسی’ بن گیا ہے، جس میں اسٹریٹجک، حساس اور ناقابل رسائی علاقوں تک سڑکیں شامل ہیں جہاں موسم کی خرابی کی وجہ سے کام صرف چھ ماہ کے لیے ممکن ہے۔اس نے کہا”ہم ایسے منصوبے حاصل کر کے خود کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں، ہم فی الحال نیمو-پدم-درچہ سڑک (لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں)پر کام کر رہے ہیں ،جو سرینگر-کرگل-لیہہ قومی شاہراہ پر درچہ اور نیمو کے ذریعے منالی کو لیہہ سے جوڑے گی، ایک تیسرا محور (منالی-لیہہ اور سرینگر کے علاوہ) لیہہ، جو لداخ کو اندرونی علاقوں سے جوڑتا ہیفراہم کرے گی،” ۔ نیمو-پدم-درچہ سڑک کے ساتھ 15,800 کی اونچائی پر چار کلومیٹر طویل شنکو لا ٹنل جلد ہی حقیقت بن جائے گی۔ڈی جی نے کہا کہ چار دھام اور امرناتھ یاترا، سکم میں رابطے کی بحالی، اروناچل پردیش فرنٹیئر ہائی وے کا بڑا حصہ اور ہند-میانمار سرحدی باڑ بی آر او کو سونپے گئے کچھ بڑے منصوبے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی آر او مختلف چیلنجوں جیسے موسم اور علاقوں کی عدم رسائی کے باوجود ان کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔