امراض چھاتی اسپتال ڈلگیٹ میں آگ سے بچائو کا کوئی انتظام نہیں

 سرینگر //محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے ڈلگیٹ میں قائم امراض چھاتی’سی ڈی ‘ اسپتال میں لکڑی کے استعمال اور پانی کی قلت کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اسپتال میں آگ لگنے کا ہر وقت اندیشہ ظاہر کیا ہے۔محکمہ نے سی ڈی اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کو لکھی گئی ایک چھٹی میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اسپتال میں مختلف جگہوں پر نصب کئے گئے فائر ایکسٹنگ ویشر کی معیاد ختم ہوچکی ہے ۔تاہم اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سفارشات کی عمل آوری پر کام جاری ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے تحت کام کرنے والے چھاتی کے امراض کے مخصوص اسپتال میں قدرتی آفت سے نپٹنے کیلئے کوئی بھی انتظام نہیں ہے۔ سی ڈی اسپتال سرینگر کی جانب سے اسپتال کے فائر آڈٹ کیلئے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کو بھیجی گئی چھٹی زیر نمبر CDH/P &S/2017-17/1123-25بتاریخ 5نومبر 2016کے جواب میں لکھی گئی جوابی چھٹی زیر نمبر DD/Estt/F- pre/49-52 بتاریخ 7جنوری 2017 میں اسپتال انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ اسپتال کی پرانی بلڈنگ کی تعمیر میں لکڑی کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور بلڈنگ کی اونچائی اسپتال میں کسی بھی ناگہانی آفت سے بچائو میں بڑی رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔ محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی نے اپنی چھٹی میں اسپتال احاطے میں کارپارکنگ کو بھی آگ سے بچائو کارروائی کیلئے ایک بڑی مشکل قرار دیتے ہوئے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سے اسپتال کے اندر جانے والے راستے پر گاڑیوں کے جمائو کو بھی ہٹانے کا انتظام کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسپتال میں پانی کی دستیابی پر چھٹی میں لکھا گیا ہے کہ اسپتال میں پانی کی دستیابی کیلئے زیر زمین 25000لیٹر کا ٹینک دستیاب ہے مگر آگ لگنے کی صورت میں یہ پانی کافی نہیں ہوگا۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے مزید لکھا ہے کہ اگرچہ اسپتال میں فائر ایکسٹنگ ویشر موجود ہیں مگر ان سب کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور اسلئے نئے فائر ایکسٹنگ ویشروں کی تنصیب لازمی ہے۔ محکمہ نے سی ڈی اسپتال میں موجود لکڑی کی چھت کو سیمنٹ کی چھت سے تبدیل کرنے،  پوری بلڈنگ میں دھواں کا پتہ لگانے اور لوگوں کو آگ لگنے کی صورتحال سے با خبر کرنے کا نظام نصب کرنے ،  اسپتال کے وارڈ نمبر 1,، 2، 3، 4اور 5  میں automatic sprinkle System,کی تنصیب اور اسپتال احاطے میں 1لاکھ 50ہزار لیٹر کا پانی ذخیرہ ہر وقت دستیاب رکھنے کی سفارش کی ہے۔محکمہ نے اسپتال کے ہر وارڈ میں پانی پر کام کرنے والے6لیٹر کے واٹر ایکسٹنگ ویشر وں کے علاوہ اسپتال کے او پی ڈی، لیبارٹری اور دیگر اہم شعبہ جات میں بھی پانی پر کام کرنے والے فائر ایکسٹنگ ویشروں کی تنصیب لازمی قرار دی ہے مگر سی ڈی اسپتال میں فائر آڈٹ کی رپورٹ پر کوئی بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اسپتال انتظامیہ نے نہ صرف اونچائی پر شعبہ جات کی تعمیر عمل میں لائی ہے بلکہ ان شعبہ جات میں بھی آگ سے بچنے کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سی ڈی اسپتال ڈاکٹر نذیر احمد چودھری نے کشمیرعظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا’’محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے کام میکنیکل ڈیویژن آر اینڈ بی کو دیا گیا ہے اور سارا کام وہی محکمہ دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ جگہ کی کمی کی وجہ سے اسپتال سے پارکنگ کو ہٹانا ناممکن ہے۔ ‘‘پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا ’’ فائر اینڈ ایمرجنسی کی سفارشات پر کام جاری ہے اور چند سفارشات پر عمل کیا گیا ہے جبکہ چند سفارشات پر عمل ہونا ابھی باقی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اسپتال میں جگہ کی کمی کی وجہ سے کار پارکنگ کو نہیں ہٹایا گیا ۔ سامیہ رشید نے کہا کہ ہم نے اسپتالوں کو خوبصورت اور جازب نظر بنانے کیلئے حکومت سے مالی امداد طلب کی تھی مگر اب تک ہمیں رقومات معصول نہیں ہوئی ہیں اور اسلئے چند سفارشات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔