اللہ اوررسولؐ کی محبت ،ایمان کی اولین شرط

محمّدشمیم احمد مصباحی
اسلام جس طرح ہم کو اللہ ورسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اورنماز،روزہ اورحج وزکوٰۃ اداکرنے کی تعلیم دیتا ہے اورایمانداری اورپرہیزگاری اورخوش اخلاقی اورنیک اطواری اختیار کرنے کی ہدایت اورتاکید کرتاہے،اس طرح اس کی ایک خاص ہدایت اورتعلیم یہ بھی ہے کہ ہم دنیا کی ہرچیز سے زیادہ،یہاں تک کہ اپنے ماں باپ اوربیوی بچوں اورجان ومال اورعزت وآبرو سے بھی زیادہ،خدااور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کے دین سے محبت کریں۔یعنی اگرکبھی کوئی ایسا نازک اورسخت وقت آجائے کہ دین پر قائم رہنے اور اللہ اور اُس کےرسولؐ کے حکموں پرچلنے کی وجہ سے ہمیں جان ومال اورعزت وآبروکاخطرہ ہو،تو اسوقت بھی اللہ عزّوجل ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوردین کو نہ چھوڑیں اور جان ومال یا عزت وآبروپرجوکچھ گزرے،گذرجانے دیں۔

قرآن وحدیث میں جابجا فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اسلام کا دعویٰ کریں اور ان کو اللہ ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ان کے دین کے ساتھ ایسی محبت اور اس درجہ کا تعلق نہ ہو،وہ اصلی مسلمان نہیں ہیںبلکہ وہ اللہ کی طرف سے سخت سزا اورعذاب کے مستحق ہیں،سورۂ توبہ میں فرمایا گیا ہے:

’’اے رسولؐ!آپ ان لوگوں کو فرمادیں کہ اگرتمہارے ماں باپ، تمہاری اولاد،تمہارے بھائی برادر تمہاری بیویاں اورتمہاراکنبہ قبیلہ اور تمہارامال دولت،جسے تم نے کمایا ہے اور تمہاری تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے رہنے کے مکانات جوتمہیں پسند ہیں(سواگریہ چیزیں)تم کو زیادہ محبوب ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کے دین کے لیے کوشش کرنے سے تو اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو اور(یادرکھو)کہ اللہ ہدایت نہیں دیتاہے فاسقوںکو‘‘۔

اس آیت سے معلوم ہواکہ جواللہ اوراُس کے رسول ؐاور ان کے دین کے مقابلہ میں اپنے ماں باپ یا بیوی بچوں یا مال وجائداد سے زیادہ محبت رکھتے ہوں اور جن کو اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اوردین کی خدمت وترقی سے زیادہ فکر ان چیزوں کی ہو ،وہ اللہ کے سخت نافرمان ہیں اور اس کے غضب کے مستحق ہیں۔ایک مشہور اورصحیح حدیث میں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایمان کی مٹھاس اوردین کا ذائقہ اسی شخص کو نصیب ہوگا جس میں تین باتیں ہوں،اول یہ کہ اللہ اوررسول کی محبت اس کو تمام ماسواسے زیادہ ہو،دوسرے یہ کہ جس آدمی سے بھی محبت کرے صرف اللہ کے لیے کرے(گویاذاتی اورحقیقی محبت صرف اللہ ہی سے ہو)اور تیسرے یہ کہ ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اوردین کو چھوڑنا اس کو ایسا ناگوار اورگراں ہو جیسا کہ آگ میں ڈالا جانا‘‘۔(مسلم)

اس سےمعلوم ہواکہ اللہ ۱وررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اصلی اور سچے مسلمان وہی ہیں جن کو اللہ ا وررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اوردین اسلام کی محبت دنیا کے تمام آدمیوں اورتمام چیزوں سے زیادہ ہو،یہاں تک کہ اگروہ کسی آدمی سے بھی محبت کریں تو اللہ ہی کے لیے کریں اور دین سے ان کو ایسی الفت ہو کہ اس کو چھوڑکر کفر کا طریقہ اختیار کرنا ان کے لیے اتنا شاق اور ایسا تکلیف دہ ہو، جیسا کہ آگ کے الاؤ میں ڈالا جانا۔ایک اورحدیث میں ہے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سےکوئی شخص اس وقت تک پورا مومن اوراصلی مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو میری محبت اپنے ماں باپ سے اوراپنی اولاد سے اوردنیا کے سارے آدمیوں سے زیادہ نہ ہو‘‘۔(بخاری) 

کسی بھی چیز کا اللّٰہ اوررسولؐ سے زیادہ عزیز ومحبوب ہونے کامطلب یہ ہے کہ جب کسی آدمی کے سامنے دو بالکل متضاد مطالبے آجائیں،ایک طرف اللّٰہ اوررسول کامطالبہ ہو تودوسری طرف اوپردرج شدہ آیت کریمہ میں مذکور چیزوں میں سے کسی چیز کی محبّت کامطالبہ، اور آدمی خدااوررسول کے مطالبے کونظراندازکرکےدوسری چیز کے مطالبہ کو ترجیح دےدے تواس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ اللّٰہ اور رسول سے زیادہ اس کو وہ چیز محبوب ہےاوراگر اس کے برعکس وہ اس چیز کے مطالبہ پر اللّٰہ اوررسولؐ کے مطالبہ کو مقدّم رکھے تواس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس نے اللّٰہ اوررسولؐکی محبت کوترجیح دی۔

اللّٰہ ورسول سے یہ محبت ایمان کالازمی تقاضاہے۔ اس کےبغیر کسی کادعوائے ایمان معتبر نہیں ہے اور یہ محبّت ِ الٰہی کےجانچنے کے لئے ایک ایسی کسوٹی ہے، جس سے ہرشخص اپنی روزمرّہ کی زندگی میں اپنے ایمان اور اپنی محبّت کوجانچ سکتاہے۔قارئین ِ کرام ! خدااوراُس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبّت دراصل خدااوررسول ؐکے پیغامات سے محبّت ہے اور ایمان دراصل اسی کانام ہے کہ آدمی بالکل اللہ اوررسولؐ کا ہوجائے اوراپنے سارے تعلقات اورخواہشات کو ان کے تعلق پر اور ان کے دین کی راہ میں قربان کرسکے،جس طرح کہ صحابۂ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کردکھایا ،اورآج بھی اللہ کے سچے اور صادق بندوں کا یہی حال ہے،اگرچہ ان کی تعدادبہت کم ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو بھی انہیں کے ساتھ اور انہیں میں سے کردے۔