العلم فی الصغر، کالنقش علی الحجر

محمد عارف خان
ایک مشہور عربی قول ہے کہ بچپن میں حاصل کیا گیا علم ،پتھر پہ کھنچی گئی لکیر کی مانند ہے۔ اس مقولہ کو ہم بچپن میں سیکھا گیا علم ، سیکھی گئی عادتیں ، اور تعلیم و تربیت کے معنی میں لے سکتے ہیں ۔ جاپان چائے کے شوقین ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے، 1967 میں نیسلے (Nestle) کمپنی نے جب کافی کو جاپان میں لانچ کیا تو اُنھیں بڑی ناکامی ہوئی۔ نقصان اُٹھانے کے بعد کمپنی کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ در حقیقت وہ پیچھے نہیں ہٹے ،تھوڑا منصوبہ میں تبدیلی کی اور غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آج، صرف 55  سال بعد جاپان کافی درآمد کرنے والا تیسرا سب سے بڑا  ملک ہے اور یہ درآمد 440,000 ٹن سے زیادہ ہے۔    آپ یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ یہ جادو کیسے ہوگیا۔ جہاں ایک کپ کافی مشکل سے پی جارہی تھی وہاں یہ تبدیلی کیسے ؟نیسلے کمپنی نے مارکیٹنگ کی نفسیات کے ماہر کلیٹرو راپایلے نامی شخص کی خدمات حاصل کیں اس نے تحقیقات کی اور اس نتیجہ پہ پہنچا کہ بنیادی طور سے جاپانی چائے کے شوقین تھے اور کافی ان کی تہذیب و ثقافت کا حصہ بالکل بھی نہیں تھی،اس لیے انھیں کافی کی لذّت اور شوق سے واقف کرانا ممکن نہیں ۔  اس کے مشورے کے مطابق کمپنی نے بچوں کی مٹھائیوں اور چاکلیٹس میں کافی کے ذائقوں کو شامل کرنا شروع کر دیا اور لگ بھگ 25 سال بعد جو نسل تیار ہوئی، وہ ناصرف کافی کی لذت سے واقف تھی بلکہ بچپن میں کھائی گئی مٹھائیوں اور چاکلیٹس کی وجہ سے اسے پسند بھی کرتی تھی۔ اس انقلابی تبدیلی کے لیے صرف ایک سوچ ، اس پہ عمل اور تھوڑا صبر ان تین چیزوں کے مثلث نے ہر جاپانی کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر اُسے کافی کا کپ پکڑا دیا۔ یہاں یہ اس تفصیل بتانے کا مقصد کوئی مارکیٹنگ ریسرچ یا معاشی ترقی کے طریقے کے منصوبے بتانا نہیں ہے ۔ بلکہ یہ بتانا ہے ایک کمپنی کو بھی جب ہر طرف سے ناکامی ہاتھ لگی تو اس نے ہر کسی کو چھوڑ کر اپنی ساری توجہ آنے والی نسل پہ لگا دی۔ اور صرف 25 سال کے قلیل عرصہ میں اس سوچ نے، اس منصوبہ بندی نے اور محنت نے دنیا کے سامنے نتائج پیش کر دیئے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ کسی بھی انسان کی ، اصولوں کے اعتبار سے ذہنی سوچ کے اعتبار سے ، مثبت یا منفی مطمع نظر کے اعتبار سے، کے بن جانے یا بگڑ جانے کا دور بچپن کا ہوتا ہے ، اس کے بعد وہ شخص بقیہ عمر وہ اپنی اس سوچ ، اس ذہنیت اور تربیت پہ عمل کرتا ہے اور اپنی سوچ کی تبلیغ بھی کرتا ہے۔ہمیں اب یہ بات بھی بہت اچھے سے قبول کر لینا چاہیئے کہ ہمارے ملک میں آگے بڑھنے کے لیے  ہمارے پاس سوائے تعلیمی ترقی کے کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ جب ہر طرف اور ہر جگہ سے ناکامی ہاتھ لگے تو سر جوڑ کر آنے والی نسل کو سنوارنے میں لگ جانا چاہیئے۔ سو فیصد بچوں کو اسکولوں سے جوڑنا اور  ڈراپ آوٹ کی شرح کو صفر تک لانا ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیاء ہے جس سے ہمارا ہر مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ہمارے پاس اپنی قوم کا سب سے بہترین سرمایہ ، اپنے بچوں کی شکل میں مو جود ہے ، اور وہ سب اپنی عمر اور وقت کے اعتبار سے ایسے دور میں ہیں کہ ہم ان کے ذہنی رخ کو بہت آسانی سے موڑ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم  اپنی تمام تر سوچ ، تمام تر سرمایہ اور اپنا سب کچھ بچوں کی تعلیمی ترقی کے لیے لگا دیں ۔ اور اپنے گلی محلوں سے ان کی تربیت کی شروعات کریں ۔ جیسے رمضان کی آمد پہ یا تہواروں کے موقعوں پہ پورے محلے کا ایک جیسا ماحول بن جاتا ہے ، بالکل اسی طرح ہمیں اپنے علاقوں میں تعلیمی ماحول بنانا چاہیے۔ اس کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے  یہ کوئی بہت زیادہ خرچیلا نہیں ہے اور نہ ہی اسے بہت بڑے ایڈمنسٹریشن کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہر محلے ،ہر گلی اور علاقے میں اس قسم کی سرگرمیاں بہت آسانی سے شروع کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے ہر محلے میں نوجوانوں کی مختلف کمیٹیاں ہوتی ہیں ،جو مختلف عنوان سے کام کرتی ہیں ۔ جیسے جلوس کمیٹی، نیاز کمیٹی، عرس کمیٹی، رمضان کمیٹی، سبیل کمیٹی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سبھی بہت زیادہ فعال ہوتی ہیں اور ان کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ ان کی نیٹ ورکنگ بہت اچھی ہوتی ہے۔ عام حالات میں یہ صرف کچھ وقت کے لیے جمع ہوتی ہیں کچھ ایک دو پروگرام ہوئے پھر سال بھر کے لیے غائب ۔ اگر ہم ان کی تنظیمِ نو کرنے میں کامیاب ہوگئے تو 90 فیصد معرکہ جیت جائیں گے۔ ہمیں ان کا  استعمال کرنا چاہیئے ۔ ایک علاقے میں کتنے بچے اسکول یا کالج جانے والے ہیں۔ ان کے پڑھنے لکھنے کے لیے ہمارے پاس کیا نظم ہے۔ اگر نظم نہیں ہے تو ہم اس کے لیے کیا انتظامات کر سکتے ہیں۔ ہماری ہر مسجد اور مدرسہ میں عصری علوم حاصل کرنے والے بچوں کو پڑھائی کرنے کے لیے ایک گوشہ ہونا چاہیئے۔ اس طریقے سے وہ مسجد سے بھی جُڑے رہیں گے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے محلے میں یا ہمارے علاقے میں ایسے کتنے بچے ہیں جو اسکول یا کالج جانے کی عمر میں ہیں ، لیکن کسی وجہ سے پڑھائی چھوڑ چُکے ہیں۔ ایسے بچوں کے لیے بھی ہمیں ایسا نظم کرنا چاہیئے کہ وہ اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کر سکیں۔ ہم اس ملک میں سب سے بڑی اقلیت ہیں ، اور یہ ہماری سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی ۔ ہمیں اپنے آپ کو، خود اپنے لیے ، اپنی قوم کے لیے ،برادران وطن کے لیے اور ملک کے لیے اتنا کارآمد بنا لینا ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی کام ہمارے بغیر نہ چلے۔ آج ہم نے کم از کم  اپنے آپ کو الیکشن کی حد تک تو کارآمد بنا لیا ہے کہ ملک کا کوئی بھی الیکشن ہمارے بغیر نہیں ہوتا۔ کم از کم ہمارے بغیر تذکرہ کے نہیں ہوتا۔ چاہئے انھیں کسی بھی شعبہ کے ماہر کی ضرورت ہو تو ہم میں موجود ہو۔ خونچہ فروش سے بہت بڑے کاروباری تک ، چوتھے درجہ کی ملازمت سے لے کہ ایڈمنسٹریٹیو سروسز تک ، یا کاروبار یا خدمات کی فراہمی کا شعبہ ہو۔ ہر متلاشی نظر ہم پر آئے اور ناکام واپس نہ ہو۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

(رابطہ۔ 9029290549)

(صدر مدرس انجمن اسلام احمد سیلر ہائی اسکول ناگپاڑہ، ممبئ )