البدر کے ارجمند گلزار یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد قرار

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//وزارت داخلہ نے ممنوعہ تنظیم البدر کے ایک سرگرم رکن ارجمند گلزار ڈار کو غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ 1967 کے تحت دہشت گرد قرار دیا ہے۔مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے منگل کو جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق، ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان عرف ڈاکٹر درست دستاویزات پر پاکستان گیا جہاں اس نے البدر میں شمولیت اختیار کی۔ گزٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک فعال دہشت گرد اور البدر کا کمانڈر رہا ہے، اور تب سے اور اس وقت پاکستان سے کام کر رہا ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ڈار نوجوانوں کو مذکورہ تنظیم میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا ہے اور جب سے وہ پاکستان گیا ہے، البدر کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ کر رہا ہے۔ 1999 میں پیدا ہوئے ڈار پلوامہ ضلع کے رتنی پورہ میںکھر بٹہ پورہ کا رہائشی پلوامہ میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی ،پلوامہ میں 18 نومبر 2020 کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں پر گرینیڈ حملہ اور نوجوانوں کو لبدر میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے معاملات میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کا ماننا ہے کہ ارجمند گلزار ڈار عرف حمزہ برہان دہشت گردی میں ملوث ہے اور اسے مذکورہ ایکٹ کے تحت دہشت گرد کے طور پرقرار دیا گیا ہے۔